خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 515
خطبات مسرور جلد 16 515 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 تو پھر آپ فرماتے ہیں کہ تمہارا کیا خیال ہے تم صرف میری بیعت کر کے بچ جاؤ گے ! پھر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے آپ صحابہ کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " یہ حالت انسان کے اندر پیدا ہو جانا آسان بات نہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنا اور تقویٰ پیدا ہونا، آپ فرماتے ہیں کہ صحابہ نے جو نمونہ دکھایا وہ کیا تھا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کو آمادہ ہو گئے۔پس " یہ حالت انسان کے اندر پیدا ہو جانا آسان بات نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کو آمادہ ہو جاوے مگر صحابہ کی حالت بتاتی ہے کہ انہوں نے اس فرض کو ادا کیا۔جب انہیں حکم ہوا کہ اس راہ میں جان دے دو پھر وہ دنیا کی طرف نہیں جھکے۔پس یہ ضروری امر ہے کہ تم دین کو دنیا پر مقدم کر لو۔" آجکل میں خطبات میں صحابہ کی سیرت بیان کر رہا ہوں بہت سارے، عجیب عجیب واقعات سامنے آتے ہیں کس قسم کی قربانیاں دینے والے تھے، کس طرح اپنے اندر نیکیاں پیدا کرنے والے تھے ، کس طرح تقویٰ میں بڑھنے والے تھے، کیا عبادتوں کے معیار تھے ، اسی لئے کہ ہمارے سامنے وہ نمونے آجائیں جن کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے صحابہ جو ہیں یہ ستاروں کی مانند ہیں ، جس کے پیچھے بھی چلو گے وہ تمہیں صحیح رستے کی طرف لے جائے گا۔(ملفوظات جلد 8 صفحہ 297) (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح جلد 11 صفحه 162 حدیث 6018 كتاب المناقب باب مناقب الصحابة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) پس یہ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " یاد رکھو اب جس کا اصول دنیا ہے پھر وہ اس جماعت میں شامل ہے خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اس جماعت میں نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی اس جماعت میں داخل اور شامل ہے جو دنیا سے دستبر دار ہے۔" اس کی وضاحت بھی آگے کر دی۔فرماتے ہیں کہ یہ کوئی مت خیال کرے کہ میں اس خیال سے تباہ ہو جاؤں گا۔یہ خداشناسی کی راہ سے دور لے جانے والا خیال ہے۔" کہ دنیا کی طرف میں گیا تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔فرمایا خدا تعالیٰ کبھی اس شخص کو جو محض اسی کا ہو جاتا ہے ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ خود اس کا متکفل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کریم ہے۔جو شخص اس کی راہ میں کچھ کھوتا ہے وہی کچھ پاتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کو پیار کرتا ہے اور انہیں کی اولاد بابرکت ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے حکموں کی تعمیل کرتا ہے۔اور یہ کبھی نہیں ہوا اور نہ ہو گا کہ خدا تعالیٰ کا سچا فرمانبردار ہو وہ یا اس کی اولاد تباہ و برباد ہو جاوے۔دنیا ان لوگوں ہی کی برباد ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور دنیا پر جھکتے ہیں۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہر امر کی طناب اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔اس کے بغیر کوئی مقدمہ فتح نہیں ہو سکتا، کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی اور کسی قسم کی آسائش اور راحت میسر نہیں آسکتی۔" فرماتے ہیں کہ "دولت ہو سکتی ہے "، پیسہ بن جائے، پیسہ آ جائے کسی کے پاس " مگر یہ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ پیسہ جو ہے " مرنے کے بعد یہ بیوی یا بچوں کے ضرور کام آئے گی۔" بہت ساری مثالیں ایسی ہمارے سامنے آتی ہیں کہ مرنے کے بعد ان کی دولتیں لٹ جاتی ہیں۔فرمایا " ان باتوں پر غور کرو اور اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرو۔"