خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 514
514 خطبات مسرور جلد 16 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 کرتے چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ہندوؤں ، عیسائیوں اور دوسری قوموں میں پائے جاتے ہیں جو بعض گناہ نہیں کرتے مثلاً بعض جھوٹ نہیں بولتے، کسی کا مال ناحق نہیں کھاتے، قرضہ دبا نہیں لیتے بلکہ واپس کرتے ہیں۔معاملات معاشرت میں بھی پکے ہوتے ہیں مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اتنی ہی بات نہیں جس سے وہ راضی ہو جاوے۔بدیوں سے بچنا چاہئے اور اس کے بالمقابل نیکی کرنی چاہیئے اس کے بغیر مخلصی نہیں۔جو اس پر مغرور ہے کہ وہ بدی نہیں کرتا وہ نادان ہے۔اسلام انسان کو اسی حد تک نہیں پہنچاتا اور چھوڑ تا بلکہ وہ دونوں شقیں پوری کرانا چاہتا ہے کہ یعنی بدیوں کو تمام و کمال چھوڑ دو اور نیکیوں کو پورے اخلاص سے کرو۔جب تک یہ دونوں باتیں نہ ہوں نجات نہیں ہو سکتی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 371 تا 378) آپ فرماتے ہیں " میں پھر جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ تم تقویٰ و طہارت میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو گا۔اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل: 129) " یقینا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ کا طریق اختیار کیا اور جو نیکیاں کرنے والے ہیں اور احسان کرنے والے ہیں )۔فرمایا اور خوب یاد رکھو کہ اگر تقویٰ اختیار نہ کرو گے اور اس نیکی سے جسے خدا چاہتا ہے کثیر حصہ نہ لو گے تو اللہ تعالیٰ سب سے اول تم ہی کو ہلاک کرے گا کیونکہ تم نے ایک سچائی کو مانا ہے اور پھر عملی طور سے اس کے منکر ہوتے ہو۔" یعنی زمانے کے امام کو مانا ہے، یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم باقی مسلمانوں سے بہتر ہیں اور نیکیوں پر چلنے والے ہیں لیکن عملی طور پر اگر تقویٰ نہیں تو اس سے انکار ہو رہا ہے۔" اس بات پر ہر گز بھروسہ نہ کرو اور مغرور مت ہو کہ بیعت کر لی ہے۔جب تک پوری تقویٰ اختیار نہ کرو گے ہر گز نہ بچو گے۔خدا تعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں نہ اس کو کسی کی رعایت منظور ہے۔جو ہمارے مخالف ہیں وہ بھی اسی کی پیدائش ہیں اور تم بھی اسی کی مخلوق ہو۔" جو مخالفین ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ہم بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔صرف اعتقادی بات ہر گز کام نہ آوے گی جب تک تمہارا قول اور فعل ایک نہ ہو۔" اعتقاد تو دوسرے مسلمانوں کا بھی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ ایک ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں، قرآن کریم آخری شرعی کتاب ہے یہ تو اعتقاد ہمارا بھی ہے، اُن کا بھی ہے لیکن اگر قول اور فعل میں تضاد ہے تو صرف اعتقاد کام نہیں آئے گا۔اصل چیز عمل ہے جس کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔پس اسلام لانا کافی نہیں ہے ، احمدی ہونا کافی نہیں ہے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے اور حقیقی مومن بننا جس کی اللہ تعالیٰ ہم سے توقع رکھتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں " خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ عملی راستی دکھاؤ " یعنی عملی طور پر سچائی کو ظاہر کرو" تا وہ تمہارے ساتھ ہو۔رحم، اخلاق، احسان، اعمال حسنہ ، ہمدردی اور فروتنی " اور عاجزی" میں اگر کمی رکھو گے تو مجھے معلوم ہے اور بار بار میں بتلا چکا ہوں کہ سب سے اول ایسی ہی جماعت ہلاک ہو گی۔" فرمایا کہ " موسیٰ علیہ السلام کے وقت جب اس کی امت نے خدا تعالیٰ کے حکموں کی قدر نہ کی تو باوجودیکہ موسیٰ اُن میں موجود تھا مگر پھر بھی بجلی سے بلاک کئے گئے۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 144-145)