خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 513
خطبات مسرور جلد 16 513 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 ٹکریں ہیں۔فرمایا کہ مسجد میں نماز پڑھی وہیں دوسرے کی شکایت اور گلہ شروع کر دیا، بدظنیاں شروع ہو گئیں ، باتیں شروع ہو گئیں ، امانت میں خیانت کر دی۔مجلسوں کی بھی امانت ہوتی ہے اور عہدیداروں کو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اپنی جماعتی مجالس کی باتیں نہ اپنے گھروں میں ، نہ کسی غیر ضروری شخص سے کرنے کی ضرورت ہے۔اس بات پر پابندی ہونی چاہئے۔بہت ساری باتیں اسی لئے پید اہوتی ہیں، فتنے اسی لئے پید اہوتے ہیں کہ اپنی امانت کی باتیں باہر نکل رہی ہوتی ہیں۔کسی کے مقام پر لوگ حسد کرنے لگ جاتے ہیں۔کسی کی عزت پر حملہ کر دیا۔آپ فرماتے ہیں اگر ایسے عیبوں اور برائیوں میں مبتلا ہوئے تو پھر نماز نے اسے کیا فائدہ دیا؟ بعض بہت سے نوجوان ہیں، مجھے ذاتی طور پر پتہ لگتا رہتا ہے لکھتے بھی رہتے ہیں کہ بعض عہدیداروں، اپنے بڑوں کی ایسی باتیں دیکھ کر ہی جماعت سے پہلے آہستہ آہستہ دور ہے، مسجد سے دور ہٹے، پھر عبادت سے دور ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔تو پھر ایسی نمازیں نہ تو صرف یہ کہ نماز پڑھنے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتیں بلکہ ان سے بعض لوگوں کو نقصان بھی پہنچ رہا ہوتا ہے۔پس اگر اگلی نسل کو سنبھالنا ہے تو سب سے پہلے بڑوں اور عہدیداروں کو اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا کہ پہلی منزل اور مشکل اس انسان کے لئے جو مومن بننا چاہتا ہے یہی ہے کہ بُرے کاموں سے پر ہیز کرے اور یہی تقویٰ ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ یہ بھی یاد رکھو کہ تقویٰ اس کا نام نہیں کہ موٹی موٹی بدیوں سے پر ہیز کرے بلکہ بار یک در بار یک بدیوں سے بچتار ہے۔مثلاً ٹھٹھے اور جنسی کی مجلسوں میں بیٹھنا جہاں دوسروں کا غلط قسم کا مذاق اڑایا جا رہا ہو، یا ایسی مجلسوں میں بیٹھنا جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہتک ہو یا اس کے بھائی کی شان پر حملہ ہو رہا ہو۔اگر چہ ان کی ہاں میں ہاں بھی نہ ملائی ہو مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی برا ہے۔ایسی مجلسوں میں بیٹھ کے ایسے لوگوں کی باتیں سننا بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک برا ہے چاہے گفتگو میں شامل نہ ہو رہے ہو کہ ایسی باتیں کیوں سنیں ؟ یہ ان لوگوں کا کام ہے جن لوگوں کے دل میں مرض ہے کیونکہ اگر ان کے دل میں بدی کی پوری حس ہوتی تو وہ کیوں ایسا کرتے اور کیوں ایسی مجلس میں جا کر ایسی باتیں سنتے۔پھر آپ فرماتے ہیں یہ بھی یاد رکھو کہ ایسی باتیں سننے والا بھی کرنے والا ہی ہو تا ہے۔جو لوگ زبان سے ایسی باتیں کرتے ہیں وہ تو صریح مواخذہ کے نیچے ہیں، واضح طور پر سزا کے نیچے آگئے کیونکہ انہوں نے ارتکاب گناہ کیا ہے۔لیکن جو چکے ہو کے بیٹھے رہے وہ بھی اس گناہ کے خمیازے کا شکار ہوں گے۔وہ بھی گناہگار بن رہے ہوں گے اور ان کو بھی نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔اس حصے کو بڑی توجہ سے یاد رکھو، آپ فرماتے ہیں کہ اس حصہ کو بڑی توجہ سے یاد رکھو اور قرآن شریف کو بار بار پڑھ کر سوچو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس لئے بہت یاد رکھنے کی چیز ہے۔پس غلط باتوں کو سن کر خاموش رہنے والے، وہیں بیٹھے رہ کر صرف باتیں سننے والے کہ مزے کے لئے باتیں سن رہے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔پھر اس بات کی مزید وضاحت بھی فرمائی کہ ایک مومن صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جاتا کہ اس نے کوئی برائی نہیں کی، پہلے بھی اس کا ذکر ہو چکا ہے۔یہ تو دوسرے مذہبوں اور قوموں کے شرفاء جو ہیں ، بلکہ ان لوگوں میں بھی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو برائیاں نہیں