خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 512 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 512

خطبات مسرور جلد 16 512 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 دوستوں سے ملتے ہیں تو پھر وہی رنگ ان میں آجاتا ہے اور اُن سنی ہوئی باتوں کو یکدم بھول جاتے ہیں۔جو نیکی کی باتیں سن کے آتے ہیں انہیں بھول جاتے ہیں اس لئے میں کہتا ہوں کہ بار بار ہمیں یہ باتیں دہرانی چاہئیں اور سامنے رکھنی چاہئیں تا کہ بھولنے سے پہلے یاد دہانی ہو جائے۔اور فرمایا کہ وہی پہلا طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔اس سے بچنا چاہئے۔جن صحبتوں اور مجلسوں میں ایسی باتیں پید اہوں ان سے الگ ہو جاناضر وری ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ان تمام بُری باتوں کے اجزاء کا علم ہو کیونکہ طلب شئے کے لئے علم کا ہونا سب سے اول ضروری ہے۔یعنی کسی چیز کی آدمی خواہش کر رہا اور اس کی طلب کر رہا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا علم بھی ہو کہ وہ چیز ہے کیا؟ اچھی ہے یا بری ہے۔اچھائی کا بھی علم ہونا چاہئے اور برائی کا بھی علم ہونا چاہئے تا کہ اگر بری ہے تو چھوڑ دے اور اچھی ہے تو اس کو اپنالے۔فرمایا کہ جب تک کسی چیز کا علم نہ ہو اسے کیو نکر حاصل کر سکتے ہیں۔قرآن شریف نے بار بار تفصیل دی ہے۔پس بار بار قرآن شریف کو پڑھو، اور تمہیں چاہئے کہ برے کاموں کی تفصیل لکھتے جاؤ اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید سے کوشش کرو کہ ان بدیوں سے بچتے رہو۔یہ تقویٰ کا پہلا مرحلہ ہو گا، بدیوں سے بچنا۔جب تم ایسی سعی کرو گے ، کوشش کرو گے تو اللہ تعالیٰ پھر تمہیں توفیق دے گا بچنے کی اور وہ کا فوری شربت تمہیں دیا جاوے گا جس سے تمہارے گناہ کے جذبات بالکل سرد ہو جائیں گے۔کافور کے بارے میں حکماء کہتے ہیں کہ جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ استعمال ہوتا ہے۔لوگ دوائیوں میں بھی استعمال کرتے ہیں۔یہاں روحانی بیماری کے لئے بھی آپ نے اس کی مثال دی ہے کہ جب برائیوں سے بچو گے تو یہی تمہارے لئے کا فوری شربت بن جائے گا جس سے آہستہ سے تمہارے گناہ ٹھنڈے ہوتے جائیں گے، ختم ہوتے جائیں گے۔اس کے بعد نیکیاں ہی سر زد ہوں گی۔جب تک انسان متقی نہیں بنتا یہ جام اسے نہیں دیا جاتا اور نہ اس کی عبادات اور دعاؤں میں قبولیت کا رنگ پیدا ہوتا ہے۔عبادتوں اور دعاؤں کو قبول کروانا ہے تو اس کے لئے بنیادی چیز یہی ہے کہ انسان برائیوں سے رُکے اور نیکیوں کو اپنائے۔یہ تقویٰ ہے۔دعائیں قبول کرانے کے لئے بھی یہ ضروری شرط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انّما يَتَقَبَّلُ الله مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة: 28) یعنی بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں ہی کی عبادات کو قبول فرماتا ہے۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ نماز روزہ بھی متقیوں ہی کا قبول ہوتا ہے۔ان عبادات کی قبولیت کیا ہے اور اس سے مراد کیا ہے ؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: نماز کی قبولیت سے مراد یہ ہے کہ نماز کے اثرات اور برکات نماز پڑھنے والے میں پیدا ہو گئے ہیں اور جب تک وہ برکات اور اثرات پیدا نہ ہوں تو نری ٹکریں ہیں۔فرمایا کہ اس نماز اور روزہ سے کیا فائدہ جبکہ اسی مسجد میں نماز پڑھی اور وہیں کسی دوسرے کی شکایت اور گلہ کر دیا۔لوگ پوچھتے ہیں کہ ہمیں کیسے پتہ لگے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز یا عبادت قبول کی ہے کہ نہیں۔تو اس کی نشانی یہی ہے کہ نمازوں کے بعد ، عبادتوں کے بعد دیکھنا چاہئے کہ بڑی اور چھوٹی برائیاں ہم سے دور ہو رہی ہیں، ان سے نفرت پیدا ہو رہی ہے، ہمارے اندر نیکیاں کرنے کی طرف توجہ زیادہ پیدا ہو رہی ہے ، سچائی کی طرف ہمارے قدم بڑھ رہے ہیں۔اگر نہیں تو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پھر یہ