خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 511 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 511

خطبات مسرور جلد 16 511 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 نہیں کیا، کوئی شکوہ نہیں کیا، کسی کے پیچھے کوئی بات نہیں کی، بدظنی نہیں کی، وہ لوگ کتنے ہیں؟ یا کسی اپنے بھائی کی ہتک کر کے اس کو رنج نہیں پہنچایا، کسی کو جذباتی تھیں نہیں پہنچائی، یہ لوگ کتنے ہیں؟ یا جھوٹ بول کر خطا نہیں کی۔اب جھوٹ کی بھی بڑی قسمیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تو یہ کہا ہے، ایک مومن کو کہا ہے کہ ہلکا سا بھی جھوٹ نہیں بولنا، تمہاری ہر بات میں سچائی ہونی چاہئے۔فرماتے ہیں یا کم از کم دل کے خطرات پر استقلال نہیں کیا، جو بھی دل میں باتیں پیدا ہوتی ہیں ان پر پھر قائم نہیں رہے۔کتنے لوگ ہوں گے ایسے؟ آپ فرماتے ہیں کہ میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ ایسے لوگ بہت ہی کم ہوں گے جو ان باتوں کی رعایت رکھتے ہوں جنہوں نے کسی کو رنج نہ پہنچایا ہو، کسی کا شکوہ نہ کیا ہو، بدظنی نہ کی ہو ، جھوٹ نہ بولا ہو، دل میں برے خیالات نہ لائے ہوں۔فرماتے ہیں ایسے بہت کم لوگ ہوں گے جو ان باتوں کی رعایت رکھتے ہوں اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہوں۔یہ سب کام اگر نہیں کرتے تو اس وجہ سے نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ورنہ کثرت سے ایسے لوگ ملیں گے جو تقریباً جھوٹ بولتے ہیں اور ہر وقت ان کی مجلسوں میں دوسروں کا شکوہ اور شکایت ہو تا رہتا ہے اور وہ طرح طرح سے اپنے کمزور اور ضعیف بھائیوں کو دکھ دیتے ہیں۔آپ اپنی مجالس کا جائزہ لے لیں۔ہر کوئی خود دیکھے تو نظر آئے گا کہ بیٹھ کے لوگوں کی برائیاں کی جاتی ہیں، تضحیک کی جاتی ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں کو اچھالا جاتا ہے ، اس پر جنسی ٹھٹھہ کیا جاتا ہے اور پھر اسی وجہ سے پھر رنجشیں پیدا ہوتی ہیں۔پس یہ ہے نیکیوں کا معیار کہ ان چیزوں سے بچنا ہے جن سے بچنے کی ایک مومن سے توقع کی جاتی ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہلا مر حلہ یہ ہے کہ انسان تقویٰ اختیار کرے۔فرمایا میں اس وقت برے کاموں کی تفصیل بیان نہیں کر سکتا۔قرآن شریف میں اول سے آخر تک اوامر اور نواہی اور احکام الہی کی تفصیل موجود ہے۔کیا کام کرنے ہیں کیا نہیں کرنے ان کی تفصیل قرآن کریم میں موجود ہے اور ایک مومن کو قرآن شریف پڑھنا چاہئے اور سمجھنا بھی چاہئے۔فرمایا کہ اور کئی سو شاخیں مختلف قسم کے احکام کی بیان کی ہیں۔خلاصہ یہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو ہر گز منظور نہیں کہ زمین پر فساد کریں۔اللہ تعالی دنیا پر وحدت پھیلانا چاہتا ہے لیکن جو شخص اپنے بھائی کو رنج پہنچاتا ہے، ظلم اور خیانت کرتا ہے وہ وحدت کا دشمن ہے۔اکائی نہیں پیدا ہو سکتی اس سے، محبت نہیں پیدا ہو سکتی، بھائی چارہ نہیں پیدا ہو سکتا۔فرمایا کہ وہ وحدت کا دشمن ہے۔جب تک یہ بد خیال دل سے دور نہ ہوں کبھی ممکن نہیں کہ سچی وحدت پھیلے۔اس لئے اس مرحلہ کو سب سے اول رکھا۔ایک جماعت ہونے میں یہی برکت ہے کہ ایک اکائی قائم ہو ، وحدت قائم ہو اور یہی مقصد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کا اور یہی مقصد تھا مہدی معہود کے آنے کا کہ مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کریں۔امت واحدہ بنائیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ یہ بھی عموماًدیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے جب اس قسم کی باتوں کو سنتے ہیں تو ان کے دل متاثر ہو جاتے ہیں اور وہ اچھا بھی سمجھتے ہیں۔یعنی کہ نیکی کی باتیں جو کی جارہی ہیں سنتے ہیں ، اس وقت خطبہ دیا جارہا ہے ، بیٹھے ہیں لوگ سن رہے ہیں، دل متاثر ہو جاتے ہیں بعضوں کے ، اکثریت کے ہوتے ہیں۔لوگ مجھے لکھتے بھی رہتے ہیں۔لیکن فرمایا لیکن جب اس مجلس سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے احباب اور