خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 43

خطبات مسرور جلد 16 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جنوری 2018 وقت جال نکالا تو یہ مچھلی لگی ہوئی تھی۔جب کنارے پر آیا تو ایک آدمی نے اٹھارہ ہزار فرانک سیفا کی خرید لی۔میں نے اس آدمی سے اجازت لی ہے کہ میں آپ کو مچھلی دکھاؤں۔تو اس مچھلی سے میرا کرایہ بھی پورا ہو گیا ہے۔ہم دونوں میاں بیوی شریک ہو سکتے ہیں اور زائد پیسے بھی بچ گئے۔اللہ تعالیٰ قبولیت دعا کے ذریعہ کس طرح احمدیوں کو ایمان میں پختگی اور خلافت پر یقین قائم فرماتا ہے اس بارے میں اپنا ایک واقعہ لکھتے ہوئے مالی کے ایک صاحب اور میں تر اوڑے صاحب کہتے ہیں کہ 2008ء میں جب آپ نے گھانا کا دورہ کیا (جب میں 2008ء میں خلافت جوبلی کے جلسہ میں شامل ہوا تھا) تو اس وقت یہ احمدی شخص بھی جلسہ میں شامل ہوئے تھے۔کہتے ہیں میں مرغیوں کا کاروبار کرتا تھا اور میں مرغیاں چھوڑ کر گھانا چلا گیا۔پیچھے میری ساری مرغیاں مر گئیں۔تو جس آدمی کے پیسوں سے میں یہ کاروبار کرتا تھا اس کو جب پتا چلا کہ میں احمدی ہوں اور احمدیوں کے جلسہ پر گیا ہوں اور مرغیاں مرگئی ہیں تو وہ مخالفت میں اور بھی اندھا ہو گیا اور میرے واپس آنے کے بعد مجھے پیغام بھیجا کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر میرے ایک لاکھ پچاس ہزار فرانک سیفا واپس کرو۔کہتے ہیں میں بہت پریشان ہوا۔میرے پاس تو رقم نہیں ہے۔یہ مخالف مجھے بہت ذلیل کرے گا۔کہتے ہیں ساری رات میں نے بڑی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میرا کچھ انتظام کر دے۔میں تو خلیفہ کی محبت میں جلسہ میں شامل ہونے کے لئے گیا تھا۔کہتے ہیں کہ مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ ایک ٹرک سے کچھ اناج گرا ہوا ہے جسے میں سمیٹ رہا ہوں۔ایک خاص جگہ دکھائی گئی کہ وہاں ٹرک ہے اور وہاں اناج گرا ہوا ہے۔وہاں سے سمیٹ رہا ہوں۔کہتے ہیں جو جگہ خواب میں دیکھی تھی میں صبح صبح وہاں گیا تو وہاں ٹرک تو کوئی نہیں تھا۔لیکن اناج گرا ہوا تھا۔کچھ دانے گرے ہوئے تھے جو میں سمیٹنے لگا تو اچانک ایک کالے رنگ کا پلاسٹک کا لفافہ ملا۔اس کو کھولا تو اس میں ایک لاکھ اسی ہزار فرانک سیفا تھے۔میں نے وہاں علاقے کے لوگوں سے پوچھا تو بتایا گیا کہ یہاں رات ایک ٹرک کھڑا تھا جو آب سینیگال کی طرف چلا گیا ہے۔میں نے لوگوں سے کہا کہ مجھے یہاں سے یہ رقم ملی ہے اگر کسی کی ہو تو بتا کر لے لے۔کوئی آدمی نہیں آیا۔بہر حال جب شام کو قرض خواہ قرض لینے آیا اور پھر بد تمیزی پر اتر آیا تو میں نے اسے کہا صبر کرو میں تمہیں قرض دے دیتا ہوں۔میرا اللہ تعالیٰ نے انتظام کر دیا ہے اور میں نے اس کی وہ رقم واپس کر دی۔کہتے ہیں اب کئی سال ہو گئے ہیں۔لیکن اس رقم کی ملکیت کا وہاں کسی نے دعویٰ نہیں کیا۔کوئی نہیں آیا اسے پوچھنے۔اسی طرح جرمنی سے مبلغ سلسلہ حفیظ اللہ بھروانہ صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ایک نو مبایع احسان صاحب جو لبنانی ہیں۔ان کی وہاں جرمنی میں میرے سے ملاقات ہوئی۔ملاقات کے دوران انہوں نے دعا کے لئے مجھ سے اپنی اسائلم کے حوالے سے مشکلات کا ذکر کیا کیونکہ پولیس نے ان کو بتایا تھا کہ انہیں کسی وقت بھی واپس بھجوادیا جائے گا۔کہتے ہیں لیکن اس آدمی کے ایمان میں بڑا اضافہ ہوا۔خدا تعالیٰ نے بڑا معجزہ دکھایا کہ ان کا کیس باوجود اس کے کہ پولیس کا خیال تھا کہ کوئی سیاسی پناہ نہیں ملے گی اور واپس جائیں گے۔تین سال کے لئے ان کو سیاسی پناہ مل گئی اور اب وہ بڑے خوش ہیں اور ہر ایک کو بتاتے ہیں کہ دعاؤں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ دکھایا ہے۔