خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 510 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 510

خطبات مسرور جلد 16 510 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 جائے گا تو ان چیزوں سے سوال ہوں گے۔آپ فرماتے ہیں کہ بہت سی بدیاں صرف بد ظنی سے ہی پیدا ہو جاتی ہیں۔ایک بات کسی کی نسبت سنی اور جھٹ یقین کر لیا بغیر تحقیق کے، فرمایا یہ بہت بُری بات ہے۔جس بات کا قطعی علم اور یقین نہ ہو اس کو دل میں جگہ مت دو۔یہ اصل بدظنی کو دور کرنے کے لئے ہے کہ جب تک مشاہدہ اور فیصلہ صحیح نہ کرے نہ دل میں جگہ دے اور نہ ایسی بات زبان پر لائے۔فرمایا یہ کیسی محکم اور مضبوط بات ہے۔بہت سے انسان ہیں جو زبان کے ذریعہ پکڑے جائیں گے۔پس بدظنی جو ہے اگر یہ دور ہو جائے تو ہمارے معاشرے کے آدھے فساد اور جھگڑے اور رنجشیں دور ہو جائیں۔اکائی پیدا ہو جائے، وحدت پیدا ہو جائے۔آپ فرماتے ہیں یہاں دنیا میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے آدمی محض زبان کی وجہ سے پکڑے جاتے ہیں اور انہیں بہت کچھ ندامت اور نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔کوئی بات کہی اور پکڑے گئے اور بات سچی نہیں نکلتی پھر شرمندگی ہوتی ہے ، سچ ثابت نہیں ہو تا۔اس لئے بہتر ہے کہ بد ظنی نہ کرو۔دوسرے کے متعلق اچھے خیال رکھو۔یا کوئی بات سنو تو تحقیق کر لیا کرو۔انسان کمزور ہے بعض خیالات دل میں آجاتے ہیں لیکن اگر ان پر عمل نہ کرے انسان تو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ صرف خیالات کے آنے سے پکڑ نہیں کرتابلکہ اس پر عمل کرنے کی وجہ سے پکڑ ہوتی ہے۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح پکڑ کرتا ہے آپ فرماتے ہیں کہ دل میں جو خطرات اور سر سری خیال گزر جاتے ہیں ان کے لئے کوئی مواخذہ نہیں۔مثلاً کسی کے دل میں گزرے کہ فلاں مال مجھے مل جاوے تو اچھا ہے۔یہ ایک قسم کا لالچ تو ہے لیکن محض اتنے ہی خیال پر جو طبعی طور پر دل میں آئے اور گزر جاوے کوئی مواخذہ نہیں۔لیکن جب ایسے خیال کو دل میں جگہ دیتا ہے اور پھر عزم کرتا ہے کہ کسی نہ کسی حیلے سے وہ مال ضرور لینا چاہئے ، غلط طریقے سے مال کمانا ہے، یہ خیال آجائے کہ اگر میرا ٹیکس اتنا بنتا ہے ، اس میں اتنی کمی کر دوں تو میرے پاس اتنی بچت ہو جائے گی۔خیال آنا تو کوئی بات نہیں، اللہ تعالیٰ نہیں پکڑتا لیکن اگر اس پر عمل کیا، ٹیکس چوری کیا، حکومت کو نقصان پہنچایا یا سچ نہیں بولا، اپنے چندوں میں اپنی آمد کو کم لکھوایا تو پھر اللہ تعالیٰ پکڑتا ہے۔اور بہت سارے ایسے تجربے ہیں، بہت سارے لوگوں کی مثالیں ہیں جن کی پھر آمدنی بھی اسی طرح آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہے اور اسی سطح پر آجاتی ہے جس پر وہ اپنی آمدنی ظاہر کر رہا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی میں بھی اور حکومت کے حق ادا کرنے میں بھی۔فرمایا تو پھر یہ گناہ قابل مواخذہ ہے۔غرض جب دل عزم کر لیتا ہے تو اس کے لئے شرارتیں اور فریب کرتا ہے۔دنیا داروں میں، دنیاوی لالچوں میں بھی، کاروباری لوگ ہیں یا دوسرے لوگ ہیں کسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے غلط طریقے سے جب دل میں خیال آتا ہے، اس پر عمل کرنا شروع کرتے ہیں ، پروگرام بنانا شروع کرتے ہیں، سکیمیں بنانی شروع کرتے ہیں۔تو پھر فرمایا کہ یہ گناہ قابل مؤاخذہ لکھا جاتا ہے۔پس یہ اس قسم کے گناہ ہیں جو بہت ہی کم توجہی کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں اور یہ انسان کی ہلاکت کا موجب ہو جاتے ہیں۔بڑے بڑے اور کھلے گناہوں سے تو اکثر پر ہیز کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ بہت سے آدمی ایسے ہوں گے جنہوں نے کبھی خون نہیں کیا ہو گا، کسی کو قتل نہیں کیا ہو گا، نقب زنی نہیں کی، چوری نہیں کی ، ڈاکہ نہیں ڈالا یا اور اس قسم کے بڑے گناہ نہیں کئے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ لوگ کتنے ہیں جنہوں نے کسی کا گلہ