خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 509 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 509

خطبات مسرور جلد 16 509 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 روحانی زندگی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔نیکیاں بطور غذا کے ہیں۔جیسے کوئی شخص بغیر غذا کے زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح جب تک نیکی اختیار نہ کرے تو کچھ نہیں۔بدیاں چھوڑو اور نیکیاں کرو تو تب روحانی زندگی ملتی ہے۔بعض برائیاں کس طرح انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں جو انسان محسوس بھی نہیں کر رہا ہو تا لیکن ایک وقت میں وہ انہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آجاتا ہے۔اس کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : بعض گناہ موٹے موٹے ہوتے ہیں مثلاً جھوٹ بولنا، زنا کرنا، خیانت کرنا، جھوٹی گواہی دینا اور اتلاف حقوق لوگوں کے حق مارنا، شرک کرنا وغیرہ۔لیکن بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔جو ان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے۔عمر گزر جاتی ہے گناہ کرتے ہوئے، چھوٹے چھوٹے گناہ سمجھتا ہے۔پتہ ہی نہیں لگ رہا ہو تا۔مثلاً آپ نے مثال دی کہ گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔شکوہ کرنا، چھوٹی چھوٹی باتوں پر رنج کا اظہار کرنا۔ادھر اُدھر باتیں کرنا اس نے یہ کہہ دیا اس نے وہ کہہ دیا۔فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی بڑا قرار دیا ہے۔یہی چھوٹی چھوٹی باتیں، جو شکایتیں ہیں گلہ کرنا، شکوہ کرنا آخر میں چغلی بن جاتا ہے۔اس لئے قرآن شریف نے اس کو بہت بڑا قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے آیحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا (الحجرات: 13) خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ۔آپ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے ، یعنی صرف باتیں ہی نہیں ہوں کیونکہ باتیں پھر دوسرے کو نقصان پہنچانے والی بھی ہوتی ہیں ، شکوے اور گلے شروع ہوتے ہیں ، ایک دوسرے کی بدظنیاں شروع ہوتی ہیں ، چغلیاں کرنی شروع ہوتی ہیں اور پھر انسان ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ دوسرے کو نقصان بھی پہنچائے۔آپ فرماتے ہیں ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نادان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یا دشمنی پیدا ہو یہ سب برے کام ہیں۔فرمایا ایسا ہی بخل ہے ، غضب ہے ، یہ سب برے کام ہیں کنجوسی ہے، غصہ میں آتا ہے، یہ سب برے کام ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے موافق پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان ان سے پر ہیز کرے اور ہر قسم کے گناہوں سے جو خواہ آنکھوں سے متعلق ہوں یا کانوں سے، ہاتھوں سے یا پاؤں سے ، بچتار ہے۔خواہ آنکھوں سے متعلق ہوں یا کانوں سے ، ہاتھوں سے یا پاؤں سے کوئی بھی قصور نہ ہو۔کسی بھی عضو سے گناہ ہو رہا ہو ان سے بچتار ہے۔کیونکہ فرمایا ہے وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل: 37) یعنی جس بات کا علم نہیں خواہ نخواہ اس کی پیروی مت کرو۔کیونکہ کان، آنکھ ، دل اور ہر ایک عضو سے پوچھا جاوے گا۔مرنے کے بعد انسان اللہ کے پاس