خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 508
خطبات مسرور جلد 16 508 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 آنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، یہ فرض ہے کہ آپ کے الفاظ کو پڑھیں ، سنیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اپنی حالتوں کو اس معیار پر لے کر آئیں جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے توقع کی ہے۔اس وقت میں آپ کے چند ارشادات پیش کروں گا جو ہماری زندگیوں کا لائحہ عمل ہیں۔ایک مقصد ہے جو آپ نے ہمیں ہمارے سامنے رکھا اور بیان فرمایا کہ ایک احمدی کا کیا معیار ہونا چاہئے ، اسے کیسا ہونا چاہئے۔آجکل کی مادی دنیا میں ان باتوں کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جبکہ ہم میں سے بعض کی ترجیحات بھی دنیا کی طرف زیادہ ہو گئی ہیں اور دین کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔اعتقادی لحاظ سے ہم اپنے آپ کو احمدی مسلمان کہتے ہیں ، لیکن عملی کمزوریاں ہم میں بہت زیادہ پیدا ہو رہی ہیں۔ان ارشادات کی روشنی میں ہر کوئی اپنا جائزہ لے سکتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کہاں ہونا چاہئے۔تقویٰ کیا ہے ؟ تقویٰ کا معیار کیا ہونا چاہئے؟ نیکی کیا ہے؟ نیکی کا معیار کیا ہو نا چاہئے ؟ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ؟ اس کے بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سچا تقویٰ جس سے خدا تعالیٰ راضی ہو اس کے حاصل کرنے کے لئے بار بار اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کیاگیا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ (الاحزاب: 71) کہ اے ایمان لانے والو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور پھر یہ بھی کہا کہ ان اللہ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل: 129) یعنی اللہ تعالیٰ ان کی حمایت اور نصرت میں ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کریں۔فرماتے ہیں کہ تقویٰ کہتے ہیں بدی سے پر ہیز کرنے کو اور محسنون وہ ہوتے ہیں جو اتنا ہی نہیں کہ بدی سے پر ہیز کریں بلکہ نیکی بھی کریں اور پھر یہ بھی فرمایا۔لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحسلی (یونس: 27) یعنی ان نیکیوں کو بھی سنوار سنوار کر کرتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ مجھے یہ وحی بار بار ہوئی۔اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَهُمْ مُحْسِنُونَ (النحل: 129) اور اتنی مرتبہ ہوئی ہے کہ میں گن نہیں سکتا۔آپ فرماتے ہیں۔خدا جانے دو ہزار مرتبہ ہوئی ہو۔اس سے غرض یہی ہے کہ تاجماعت کو معلوم ہو جاوے کہ صرف اس بات پر ہی فریفتہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اس جماعت میں شامل ہو گئے یا صرف خشک خیالی ایمان سے راضی ہو جاؤ۔اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت اسی وقت ملے گی جب سچا تقویٰ ہو اور پھر نیکی ساتھ ہو۔فرمایا یہ فخر کی بات نہیں کہ انسان اتنی ہی بات پر خوش ہو جاوے کہ مثلاً وہ زنا نہیں کرتا یا اس نے خون نہیں کیا کسی کو قتل نہیں کیا چوری نہیں کی۔فرماتے ہیں یہ کوئی فضیلت ہے کہ برے کاموں سے بچنے کا فخر حاصل کرتا ہے ؟ یہ کوئی بات نہیں ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ ہم برے کاموں سے بچے ہوئے ہیں۔فرماتے ہیں کہ دراصل وہ جانتا ہے کرنے والا اگر یہ کام نہیں کرتا۔وہ جانتا ہے کہ چوری کرے گا تو قانون کی رُو سے زندان میں جاوے گا۔یعنی قید ہو گا، پکڑا جائے گا، سزا ملے گی۔فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ایسی چیز کا نام نہیں ہے کہ برے کام سے ہی پر ہیز کرے۔اتنا ہی اسلام نہیں بلکہ جب تک بدیوں کو چھوڑ کر نیکیاں اختیار نہ کرے وہ اس