خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 507
خطبات مسرور جلد 16 507 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 26 / اکتوبر 2018ء بمطابق 26 / اخاء1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت السمیع، ہیوسٹن (Houston)، امریکہ تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ ہم پر بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلام صادق کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے مہدی کے الفاظ سے خطاب فرمایا، یا یاد فرمایا۔(سنن الدار قطنی جلد اوّل صفحه 51 حديث 1777 كتاب العيدين مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) یہ پیار اور قرب کے اظہار کا اعلیٰ مقام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا کہہ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور مہدی معہود علیہ السلام کو عطا فرمایا۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے لٹریچر میں اسلام کے اعلیٰ ترین مذہب ہونے کے بارے میں بیان فرمایا ہے اور اعتراض کرنے والوں کے اعتراض انہی پر الٹا کر یہ ثابت فرمایا کہ آج حقیقی اور اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا اور گناہوں سے نجات دلانے والا اگر کوئی مذہب ہے ، اور مذہب ہے یقینا، تو وہ صرف اسلام ہے ، وہاں اپنوں کی تربیت کے لئے بھی بے شمار تقاریر ، تحریروں اور مجالس میں بے شمار ارشادات فرمائے جو ہمارے لئے قدم قدم پر رہنما ہیں اور ہدایت کے سامان ہیں۔آپ نے اپنے ماننے والوں کو بڑے درد کے ساتھ بیعت کا حق ادا کرنے اور حقیقی مومن بننے کی طرف رہنمائی فرمائی۔یہ وہ ارشادات ہیں جنہیں ہمیں باقاعدہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور یہی ہماری روحانی تربیت کا ذریعہ ہے۔یہی ذریعہ ہے جس کے ذریعہ سے ہم دین کا ادراک بھی حاصل کر سکتے ہیں۔اور یہی ذریعہ ہے جس سے ہم خدا تعالیٰ کے قرب پانے کے راستے بھی تلاش کر سکتے ہیں۔یہی ذریعہ ہے جس سے ہم قرآن کریم کے اسرار و معارف تک پہنچ سکتے ہیں۔اور یہی ذریعہ ہے جس سے ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مر تبہ کو پہچان سکتے ہیں۔اور یہی ذریعہ ہے جس سے ہم اپنی اعتقادی حالتوں کو درست کر سکتے ہیں۔اور یہی ذریعہ ہے جس سے ہم اپنی عملی حالتوں میں بہتری لا سکتے ہیں۔یہ بڑی بد قسمتی ہو گی اگر ہم اس خزانے کے ہوتے ہوئے اس سے فائدہ نہ اٹھائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ میں جو طاقت اور قوت قدسی ہے اس کا اثر کسی اور کے الفاظ میں نہیں ہو سکتا۔اور کیوں نہ ہو ! یہی تو وہ امام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اس زمانے میں بھیجا ہے۔پس یہ ہمارا، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں