خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 503 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 503

خطبات مسرور جلد 16 503 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2018 اس مسجد کی تعمیر میں جو خرچ ہوا جو مجھے بتایا گیا اب تک 8۔1 ملین ڈالرز خرچ ہوئے ہیں۔1/3 حصہ جماعت نے دیا ہے، کچھ نیشنل ہیڈ کوارٹر نے دیا ہے، باقی تفصیل میں آگے بھی بتادوں گا، لیکن اس 8۔1 ملین ڈالرز کے خرچ کا فائدہ تو تب ہے جب اس کے مقصد کو پورا کریں اور دور رہنے کے باوجود، اگر فی الحال لوگوں کی آبادی یہاں قریب نہیں ہے ، جو بھی اس شہر میں رہتے ہیں اس مسجد کی آبادی کی پانچ وقت کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ: مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔" اس زمانے میں ویران پڑی ہوئی تھیں اور آجکل بھی جو آباد ہیں تو وہاں غلط قسم کے نام نہاد علماء کے غلط نعروں نے ان کو امن کی بجائے فساد کی جگہ بنادیا ہوا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی۔کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا لیکن کیا کچھ کام ہوئے وہاں۔فرماتے ہیں کہ مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے“۔پھر فرمایا۔مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔" (لمفوظات جلد 8 صفحہ 170) پس اگر اخلاص کے ساتھ نمازیں پڑھیں اور تقویٰ پر چلتے ہوئے آکر اس مسجد کو آباد رکھیں گے تو عبادتیں بھی قبول ہوں گی اور غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ صحیح رنگ میں ہو سکے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ جو ہماری مسجد میں اس نیت سے داخل ہو گا کہ بھلائی کی بات سیکھے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد3 صفحه 322 مسند ابى هريرة، حديث 8587 عالم الكتب بيروت 1998ء) پس یہ ہے حقیقی مسلمان کا مقصد۔آجکل اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے کہ اسلام جہاد کی تعلیم دیتا ہے اور بعض مسلمانوں کے عمل بھی اس بد نامی میں شامل ہیں لیکن حقیقی مومن کا کام یہ ہے کہ نیکیاں سیکھے ، نیکیوں پر عمل کرے، نیکیاں پھیلائے تو گویا وہ جہاد کر رہا ہے اور یہ جہاد کرنا آج ہم احمدیوں کا کام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بار بار ہمیں نیکیوں پر چلنے اور تقویٰ پر قدم مارنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ : " اس وصیت کو توجہ سے سنیں، فرمایا۔اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بد چلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔وہ پنجوقت نماز جماعت کے پابند ہوں۔وہ جھوٹ نہ بولیں۔وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔کوئی تکلیف نہ پہنچائیں۔۔وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔" فرمایا غرض ہر ایک قسم کے معاصی (گناہ) اور جرائم اور نا کر دنی اور نا گفتنی یعنی ہر قسم کی نہ کرنے والی اور نہ کہنے والی کوئی بھی برائیاں جو ہیں ، کسی قسم کی برائی کا اظہار نہ ہو ان سے۔اور تمام نفسانی جذبات اور بیجا حرکات سے -۔۔۔