خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 504
خطبات مسرور جلد 16 " 504 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2018 ( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 46-47) مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شمر" اور غریب مزاج بندے ہو جائیں۔اور کوئی زہریلا خمیر ان کے وجود میں نہ رہے۔اور تمام انسانوں کی ہمدردی ان کا اصول ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاویں۔اور پنجوقتہ نماز کو نہایت التزام سے قائم رکھیں۔اور ظلم اور تعدسی اور غبن اور رشوت اور اتلاف حقوق اور بیجا طرفداری سے باز رہیں۔کسی کی بے جاطر فداری بھی غلط چیز ہے اور لوگوں کا حق مارنا بھی غلط چیز ہے اور اس پہ خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔۔۔۔اور کسی بد صحبت میں نہ بیٹھیں۔" خاص طور پر نوجوانوں کو اس کی طرف توجہ دینی چاہئے اور بد صحبت میں آجکل کے بہت سارے مختلف قسم کے جدید ذرائع ہیں جو سوشل میڈیا پر اور دوسری جگہوں پر غلط قسم کی باتیں ہوتی ہیں یہ سب بد صحبتیں ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اب یہاں پاکستان سے بہت سے لوگ اسائلم لے کر بھی آکے آباد ہوئے ہیں یار فیوجی (refugee) بن کر آئے ہیں ان کے لئے بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ہر احمدی کے سامنے صرف اس دنیا کی خوشیاں اور چاہتیں نہیں ہونی چاہئیں بلکہ اگلے جہان کی فکر ہونی چاہئے ، وہاں کے انعامات اور فائدے ہمیشہ رہنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا کہ: " خدا تعالیٰ بھی انسان کے اعمال کا روز نامچہ بناتا ہے۔روز کے روز اعمال لکھے جاتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ۔۔پس انسان کو بھی اپنے حالات کا ایک روز نامچہ تیار کرنا چاہئے۔خود بھی انسان کو کوشش کرنی چاہئے کہ دیکھے آج سارے دن میں میں نے کیا نیکیاں کی ہیں اور کیا برائیاں کی ہیں۔کن باتوں پر، نیکیوں پر عمل کیا ہے اور کن پر نہیں کیا۔فرمایا۔اور اس میں غور کرنا چاہئے۔" صرف تیار نہیں کر لینا، بلکہ غور کریں تب ہی انسان نیکیوں کی طرف جا سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہدایت یافتہ ہو سکتا ہے۔فرمایا کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھا ہے۔یہ دیکھو۔۔۔انسان کا آج اور کل برابر نہیں ہونے چاہئیں۔جس کا آج اور کل اس لحاظ سے کہ نیکی میں کیا ترقی کی ہے برابر ہو گیا وہ گھاٹے میں ہے۔" فرماتے ہیں، اگر برابر کیا تو کوئی فائدہ نہیں یہ تو نقصان ہے۔۔۔انسان اگر خدا کو مانے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضائع نہیں کیا جاتا۔" (ملفوظات جلد 10 صفحہ 137-138) پس یہ بہت سوچنے کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ جب ہم پر فضل فرما رہا ہے تو اس کی شکر گزاری ہم پر فرض ہے۔پس وہ لوگ جو اپنے دنیاوی کاروباروں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے حق کو اور اپنی عبادتوں کو بھول گئے ہیں یا اس پر وہ توجہ نہیں جو ہونی چاہئے وہ اپنے جائزے لے لیں کہ ہمارا عہد بیعت کیا ہے اور ہمارے عمل کیا ہیں۔اور جو یہاں نئے آئے ہیں وہ بھی یاد رکھیں کہ دنیا میں ڈوبا ترقی نہیں ہے بلکہ تباہی ہے۔اور انہوں نے ہمیشہ اس بات کو سامنے رکھنا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں۔مسجدوں کے حق ادا کرنے والے ہوں اللہ کی عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور اقتباس پیش کرتا ہوں آپ فرماتے ہیں کہ : " یاد رکھو ہماری جماعت اس بات کے لئے نہیں ہے جیسے عام دنیادار زندگی بسر کرتے ہیں، نر از بان سے