خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 502 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 502

خطبات مسرور جلد 16 502 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2018 اتفاق ہے۔انہوں نے اسلام کو ٹھیک اُس شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس شکل میں حضرت نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا۔" (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 106) پھر حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ عاجز را قم کو ان تھوڑے سے ایام میں جو ملک امریکہ میں داخل ہوئے گزرے ہیں باوجود بڑی مشکلات اور رکاوٹوں کے جو متعصب عیسائیوں کی طرف سے پیش آئیں معتد بہ کامیابی حاصل ہوئی۔الحمد للہ علی ذالک۔پھر لکھتے ہیں کہ اس وقت 29 نئے جنٹلمین اور لیڈیاں عاجز کی تبلیغ سے داخل دین متین ہو چکے ہیں جن کے اسمائے گرامی مع جدید اسلامی نام پیش کئے جاتے ہیں۔پھر وہ تفصیل پیش کی پھر آپ نے لکھا کہ نمبر 1 اور 2 ڈاکٹر جارج بیکر اور مسٹر احمد اینڈرسن یہ ہر دو صاحبان ایک عرصے سے عاجز کے ساتھ خط و کتابت رکھتے تھے اور مدت سے مسلمان ہو چکے ہیں۔مخلص مسلمان ہیں ، میں ضروری سمجھتا ہوں ان کا نام اس فہرست میں سب سے اوّل رکھا جائے۔(ماخوذ از الفضل 22 جولائی 1920ء جلد 8 نمبر 4 صفحہ 1) پھر جیسا کہ میں نے کہا بعض دوسرے لوگوں کا ذکر ہے۔اب یہ سنا ہے کہ یہاں فلاڈلفیا میں ڈاکٹر بیکر کی قبر بھی تلاش کر لی گئی ہے۔ان کی وفات 1918ء میں ہوئی تھی۔ان کی یہیں تدفین ہے۔تو اس زمانے میں آج سے تقریباً سو سال پہلے سے یہاں احمدیت آئی ہوئی ہے لیکن بہر حال اب جبکہ جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالی نے اس شہر میں ہمیں ایک خوبصورت مسجد بنانے کی توفیق دی ہے تو اس کے ذریعہ سے اب ایک نئے عزم کے ساتھ یہاں کی جماعت اور مبلغ کو بھی تبلیغ کے ایسے پروگرام بنانے چاہئیں جس سے اسلام کی خوبصورت تعلیم اور یہ پیغام ہر طرف پھیل جائے اور یہ علاقہ امن اور خوبصورتی کے لحاظ سے ایسا علاقہ بن جائے کہ لوگ کوشش کر کے اس علاقے میں آکر رہائش کے خواہش مند ہوں۔آبادی کے لحاظ سے یہ شہر امریکہ کا چھٹا بڑا شہر ہے۔اگر اس شہر میں اور اس کے ارد گرد علاقے میں اسلام کا صحیح پیغام پہنچایا جائے تو انشاء اللہ انہی لوگوں سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو صحیح عابد اور مسجد وں کو آباد کرنے والے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے اور ہدایت یافتہ لوگ ہوں گے۔پس ہر مسجد جو ہم بناتے ہیں ہمارے لئے ایک بہت بڑا چیلینج لے کر آتی ہے کہ اپنی حالتوں کو بھی درست کرنا ہے، اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بھی اور عملی نمونے میں بھی اپنی حالتیں بہتر کرنی ہیں اور تبلیغ کے میدان بھی کھولنے ہیں ، صرف اتنی بات پر خوش ہو کر نہیں بیٹھ جانا کہ ہم نے مسجد بنالی۔ہم نے اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلام صادق کو مانا ہے جس نے اسلام کا احیائے نو کرنا تھا، نئی زندگی شروع کرنی تھی۔آپ نے ان تمام غلط فہمیوں کو دنیا کے دماغوں سے نکالنا تھا جو اسلام کے متعلق پیدا ہو چکی ہیں چاہے وہ غیر مسلموں کے ذریعہ سے پیدا ہوئی ہوں یا نام نہاد علماء کی غلط تفسیروں سے پیدا ہوئی ہوں۔اور اب یہ کام ہمارا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کا ہے کہ اس لحاظ سے اپنی تمام تر کوششوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ، اپنی حالتوں اور عبادتوں کو ان معیاروں تک لے کر جائیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول ہیں ، جن کے بارے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار توجہ دلائی ہے۔