خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 501 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 501

خطبات مسرور جلد 16 501 خطبه جمعه فرموده مورخه 19 اکتوبر 2018 ہونے والی یہ پہلی مسجد ہے۔پس جب مسجد کے طور پر یہ عمارت اس شہر میں تعمیر ہوئی ہے تو صرف یہ بتانے کے لئے نہیں کہ مسلمانوں کی مسجد کی حقیقی شکل کس طرح کی ہوتی ہے بلکہ یہ بتانے کے لئے ہے کہ اس مسجد سے اسلام کی خوبصورت اور امن پسند تعلیم کی اصل شکل ابھر کر دنیا کے سامنے آئے گی۔ہم ہیں جو دعاؤں اور عبادتوں کے ساتھ اسلام کا حقیقی پیغام دنیا میں پھیلاتے ہیں اور یہاں اب پہلے سے بڑھ کر اپنے عملی نمونوں کے ذریعہ سے پھیلائیں گے۔اس علاقے میں اسلام کی تعلیم کی عملی صورت کا اظہار کر کے ہم نے احمدی مسلمانوں کی آبادی کو بھی بڑھاتا ہے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ ہماری احمدی آبادی بھی ایک دو گھروں کے علاوہ یہاں سے عموماً فاصلے پر ہی ہے۔امیر صاحب سے بات ہو رہی تھی انہوں نے بتایا، اس بات کا اظہار کیا کہ اس مسجد کا کافی بڑار قبہ ہے اور بڑا پلاٹ ہے جس میں تعمیر کی اجازت بھی مل سکتی ہے۔اگر یہاں فلیٹس بنائے جائیں یا گھر بنائے جائیں یا احمدیوں کو بنانے کی اجازت دی جائے تو مسجد کے قریب آبادی ہو سکتی ہے۔میرے خیال میں یہ ایک اچھی تجویز ہے اس پر غور ہونا چاہئے۔اگر یہ تجویز قابل عمل ہے تو ضرور کوشش ہونی چاہئے کہ یہاں احمدی گھر آکر آباد ہوں اور جب احمدی آبادی ہو گی اور اس نیت سے آئے گی کہ مسجد کو بھی آباد کرنا ہے اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کا پیغام بھی پہنچانا ہے تو اللہ تعالیٰ پھر اس نیت میں بھی برکت ڈالے گا اور یہ بات انشاء اللہ تعالیٰ احمدی آبادی میں اضافے کا باعث بھی ہوگی۔ہماری تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ 1920ء میں جب حضرت مفتی محمد صادق صاحب امریکہ بطور مبلغ تشریف لائے تو یہاں فلاڈلفیا کی بندرگاہ پر اترے تھے لیکن آپ کو ملک میں داخل نہیں ہونے دیا گیا، اس وقت اس کی اجازت نہیں ملی اور ان کو ایک گھر میں قید کر دیا گیا۔وہاں اور بھی قیدی تھے۔آپ کی تبلیغ سے دو مہینے میں پندرہ قیدیوں نے اسلام قبول کر لیا۔تبلیغ کے ساتھ ساتھ ان کا عملی نمونہ بھی تھا، ان کا تقویٰ بھی تھا، ان کی دعائیں بھی تھیں۔پس تبلیغ کے ساتھ یہ بھی ایک ضروری چیز ہے۔اور پھر کہا جاتا ہے کہ آپ کے قیام کے دوران یہاں پانچ چھ ہزار احمد کی ہوئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس وقت یہ فرمایا تھا کہ اگر یہی بیعتوں کی تعداد ہو تو چند دہائیوں میں (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 250) (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 477) لاکھوں تک یہ تعداد پہنچ سکتی ہے۔بہر حال وہ ٹارگٹ تو حاصل نہ ہو سکا جو بھی روکیں تھیں یا حالات تھے یا ہماری کمزوریاں تھیں لیکن اب موقع ہے کہ ہم ایک عزم کے ساتھ اس کی کوشش کریں، بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی یہاں پیغام پہنچ گیا تھا جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں فرمایا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ۔۔۔ایسا ہی اور کئی انگریز ان ملکوں میں اس سلسلہ کے ثنا خوان ہیں اور اپنی موافقت اس سے ظاہر کرتے ہیں۔بڑی تعریف کرتے ہیں اور یہ اظہار کرتے ہیں کہ ہم بالکل اس تعلیم کے قائل ہیں۔تو فرماتے ہیں۔چنانچہ ڈاکٹر بیکر جن کا نام ہے اے جارج بیکر نمبر 404 سیس کوئی مینا ایونیو ( Susquehanna Avenue) فلاڈلفیا امریکہ۔میگزین ریویو آف ریلیجنز میں میرا نام اور تذکرہ پڑھ کر اپنی چٹھی میں یہ الفاظ لکھتے ہیں۔جس نے مضمون لکھا تھا ان کو بیکر صاحب یہ لکھتے ہیں کہ " مجھے آپ کے امام کے خیالات کے ساتھ بالکل