خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 42

خطبات مسرور جلد 16 42 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جنوری 2018 بہر حال اس سے یہ تو پتا چل گیا کہ وہاں کے چوروں میں بھی خدا تعالیٰ کا خوف ہے اور خدا تعالیٰ کے نام سے ڈر گئے۔لیکن پاکستان کے ملاں کے دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بالکل خالی ہیں۔خدا تعالیٰ کے نام پر اس کے حکموں کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں۔اور یہی لوگ ہیں جنہوں نے قوم میں بھی بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ قوم پر بھی رحم کرے اور ان ظالموں سے قوم کو بھی جلد چھڑائے۔ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے مبلغ انچارج صاحب گنی کنا کری لکھتے ہیں کہ ایک مخلص نو مبایع نوجوان سلیمان صاحب نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ وقف کر کے جماعت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لہذا ہم نے انہیں سیر الیون جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کا مشورہ دیا۔انہوں نے بخوشی قبول کر لیا۔تیاری شروع ہو گئی۔کہتے ہیں جب ہم نے ان کے والدین جو ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے ان کو مشن ہاؤس بلوایا تا کہ ان کی رضامندی حاصل کی جا سکے تو بظاہر وہ خوش ہوئے اور تمام معلومات لے کر دو دن کے بعد واپس آنے کا کہہ گئے۔واپس جا کر انہوں نے اپنے مولوی سے مشورہ کیا تو انہوں نے انہیں بہکا دیا اور ہمارے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کروا دیا کہ جماعت احمد یہ ایک غیر مسلم اور متشد د جماعت ہے اور یہ لڑکے کو بھی ور غلا رہی ہے اور شدت پسند بنارہی ہے۔کہتے ہیں اس پر ہمیں بڑی پریشانی ہوئی۔مجھے بھی انہوں نے دعا کے لئے لکھا اور بہر حال میں نے بھی ان کو جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے۔کوشش کرتے رہیں دعا بھی کرتے رہیں۔چنانچہ کہتے ہیں جب پولیس نے انکوائری کی اور جماعت کا تعارف جب انہیں پیش کیا پولیس کو لیف لٹس (Leaflets) وغیرہ دیئے گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پولیس کمشنر نے نہ صرف کیس خارج کر دیا بلکہ کہنے لگا کہ مجھے تو ان کا بیان کردہ اسلام زیادہ صحیح اور پر امن لگتا ہے اور پولیس کمشنر نے کہا کہ مجھے مزید معلومات فراہم کریں میں بھی اس جماعت میں شامل ہو نا چاہتا ہوں۔پھر ایک واقعہ مالی ریجن کے مبلغ مستنصر صاحب لکھتے ہیں کہ اس سال جلسہ سالانہ مالی کے لئے احباب کو تحریک کی کہ کثرت سے لوگ شامل ہوں۔چونکہ جہاں جلسہ ہونا تھا وہاں کا فاصلہ کافی ہے تقریباً چار سو کلو میٹر۔وہاں کے رہنے والے غریب لوگ ہیں۔وہاں جانے کا، اتنا فاصلہ طے کرنے کا دس ہزار فرانک سے زائد کرایہ لگتا ہے۔غریب آدمیوں کے لئے اتنی رقم مہیا کرنا کہ سارا خاندان جائے بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔تو ایک ممبر یحیی صاحب ہیں جو دریا سے مچھلیاں پکڑتے ہیں اور مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔انہوں نے بڑی کوشش سے سارے سال میں ایک آدمی کا کرایہ بنایا تھا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تو میں گیا تھا۔اس سال کیونکہ ایک آدمی کا کرایہ ہے اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنی بیوی کو جلسہ پر بھجواؤں گا۔مربی صاحب نے انہیں کہا کہ آپ کی نیت تو اچھی ہے۔لیکن کوشش کریں کہ آپ بھی جلسہ میں شامل ہوں اور اس کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ دریا سے مچھلی کا ایسا شکار آپ کو دے دے کہ آپ کا بھی کرایہ بن جائے۔چنانچہ جس دن صبح جلسہ کے لئے وہاں سے قافلہ چلنا تھا اس سے پہلے رات آٹھ بجے وہ شخص مشن میں آئے۔ان کے ہاتھ میں تقریباً بارہ کلو کی ایک بہت بڑی مچھلی تھی۔انہوں نے بتایا کہ جب صبح دریا میں جال ڈالنے گیا تو میں نے بڑی دعا کی کہ کل قافلہ روانہ ہونا ہے اور میرے پاس کرایہ نہیں ہے۔اے اللہ میری مدد کر کہ میں جلسہ میں شامل ہو سکوں۔نیت میری نیک ہے۔کہتے ہیں عصر کے