خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 500
خطبات مسرور جلد 16 اعتماد بالکل نہیں رہا۔500 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2018 (ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحه 79-80) اور اس بات کی آپ نے یہ وضاحت فرمائی کہ اسباب اور دوسری چیزوں پر خدا تعالیٰ کی نسبت زیادہ بھروسہ ہے۔اپنی نوکریوں ، اپنے کاروباروں ، اپنی دنیاوی مصروفیات کی طرف زیادہ توجہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ نمازوں کی طرف توجہ نہیں ہے ، مسجدیں آباد کرنے کی طرف توجہ نہیں ہے۔پس ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ طور پر یہ مانگنا چاہئے کہ اے خدا ہمیں کامل مومن بندہ بنا۔کیونکہ مومن بننا بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر منحصر ہے اس لئے اس کے مانگنے سے ہی یہ مقام حاصل ہو سکتا ہے۔ہم صرف اس بات پر خوش نہ ہو جائیں کہ ہم نے ایک بڑی خوبصورت مسجد فلاڈلفیا میں بنا دی ہے، اس شہر میں بنادی ہے، بلکہ ہم اس کا حق ادا کرتے ہوئے جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو ہم یہ سننے والے ہوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسجد میں خدا تعالیٰ کی خاطر بنائی ہیں اور پھر اس کا حق ادا کرنے کی بھی کوشش کی۔چنانچہ انہی ہدایت یافتہ لوگوں میں اور ان لوگوں میں ان کا شمار کیا جاتا ہے جن سے اللہ راضی ہوتا ہے، جن سے خدا تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔پس اس سوچ کو ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جب یہ سوچ ہو گی اور اس کے لئے کوشش ہو گی تو اس مسجد کے افضال اور برکات ہم اس دنیا میں بھی محسوس کریں گے ، ہماری اولا دیں اور رنسلیں بھی دین سے جڑی ہوئی ہوں گی اور ہم اللہ تعالیٰ کے پیغام کو بھی اس علاقے اور اس شہر میں پھیلانے والے ہوں گے۔توحید کو دنیا میں قائم کرنے والے ہوں گے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہر انے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسجدوں کی تعمیر کا ایک مقصد یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ جس علاقے میں اسلام کی حقیقی تعلیم اور حقیقی پیغام پہنچانا چاہتے ہو وہاں مسجد بنا دو۔آپ نے فرمایا کہ " اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔یہ خانہ خدا ہوتا ہے۔جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہو گئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑگئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنادینی چاہئے پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گا۔لیکن شرط یہ ہے۔" صرف مسجد بننے سے نہیں ہو تا، فرمایا۔شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو۔" اخلاص سے بنائی جائے مسجد نہ دکھاوے کے لئے۔فرمایا کہ " محض اللہ اسے کیا جاوے۔" یعنی مسجد کی تعمیر کا کام اللہ کی خاطر صرف کیا جائے۔" نفسانی اغراض یا کسی شہر کو ہر گز دخل نہ ہو تب خدابرکت دے گا۔" (ملفوظات جلد 7 صفحہ 119) پس یہ بات ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنی چاہئے کہ مسجد ہم بناتے ہیں، مسجد کی خاطر ہم مالی قربانی بھی اگر کرتے ہیں تو اس میں کوئی دکھاوا نہ ہو بلکہ یہ نیت ہو کہ مسجد بنے گی تو ہم بھی عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں گے ہماری آئندہ نسلیں بھی محفوظ ہوں گی اور دین سے جڑی رہیں گی۔پس اس مسجد کی تعمیر اور آبادی کے ساتھ ایک اور بڑی ذمہ داری بھی یہاں کے رہنے والوں پہ بڑھ گئی ہے کہ اس شہر میں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ اس مسجد کو بنادیں۔کہا جاتا ہے یہاں اس شہر میں مسلمانوں کی سینتالیس مساجد یا سینٹر ہیں لیکن با قاعدہ مسجد کے طور پر تعمیر