خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 499 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 499

خطبات مسرور جلد 16 499 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2018 رکھنا ہے اور یہی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات اور تفسیر سے پتہ چلتا ہے۔پس نماز کا حقیقی قیام کرنے والے وہ لوگ ہیں جو باجماعت نماز کے عادی ہوں اور اپنی توجہ خالص اللہ تعالیٰ کی طرف رکھتے ہوئے نمازیں پڑھنے والے ہوں ، دعا، استغفار اور توجہ سے نماز ادا کرنے والے ہوں ، توجہ ادھر ادھر ہو تو پھر اپنی توجہ کو خدا تعالیٰ کی طرف لے کر آئیں۔ہم میں سے ہر ایک اپنا جائزہ لے سکتا ہے کہ کس حد تک ہم اقام الصلوۃ کے اس معیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔اس مادی دنیا میں اکثریت اول تو باجماعت نماز کی ادائیگی کی طرف توجہ نہیں دیتی۔اور اگر مسجد میں آبھی جائیں تو نہ فرض نمازوں میں، نہ سنتوں میں وہ توجہ رہتی ہے جو نماز کا حق ہے۔ایسی حالت اگر ہے تو ہم خود ہی اپنی حالت کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ کیا واقعی ہم ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مساجد تعمیر کرنے والے اور اس کا حق ادا کرنے والے کہا ہے۔پھر فرمایا کہ زکوۃ ادا کرنے والے ہیں۔دین کی خاطر بھی مالی قربانی کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی بہتری کے لئے بھی، ان کے حق ادا کرنے کے لئے بھی مالی قربانی کرنے والے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کو سوائے اللہ تعالیٰ کے خوف کے اور کوئی خوف نہیں ہوتا۔اس فکر میں رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے کسی عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائے، اللہ تعالیٰ کے پیار سے ہم محروم نہ ہو جائیں۔اپنے اعمال ان ہدایات کے مطابق کرنے والے ہوتے ہیں ، ان حکموں کو اپنے پیش نظر ہر وقت رکھنے والے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی مسلمان کو حکم دیا ہے اور جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔پس یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے جو ایک مومن، مسلمان کی ہے۔اور اس مسجد بننے کے بعد یہاں آنے والوں یا اس مسجد سے اپنے آپ کو منسوب کرنے والوں کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت بڑھ گئی ہیں۔آپ نے اپنی عبادتوں کے بھی حق ادا کرنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے بھی حق ادا کرنے ہیں تبھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جانے والے ہوں گے، تبھی ان لوگوں میں شمار ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر رہتی ہے۔اس آیت سے پہلے کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ مشرکوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ مساجد کی تعمیر کریں یا ان کی آبادی کریں، ان کے دل تو غیر اللہ سے بھرے پڑے ہیں۔اور جس کا دل غیر اللہ سے بھر اہو وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کر ہی نہیں سکتا نہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کر سکتا ہے۔اور شرک بھی کئی قسم کا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ: شرک کئی قسم کے ہیں۔ایک تو موٹا اور صحیح شرک ہے جس میں کسی انسان یا پتھر یا اور بے جان چیزوں یا قوتوں یا خیالی دیویوں اور دیوتاؤں کو خدا بنا لیا گیا ہے۔فرماتے ہیں کہ اگر چہ یہ شرک ابھی دنیا میں موجود ہے، ظاہری طور پر موجود ہے لیکن فرمایا کہ یہ زمانہ روشنی اور تعلیم کا ایسا زمانہ ہے کہ عقلیں اس قسم کے شرک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئی ہیں۔گو یہ شرک ہے لیکن تعلیم نے انسان کو اس قابل بنا دیا ہے کہ عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ یہ پتھر کی مورتیاں اور بت جو ہیں یہ ہمارا کچھ کر سکتے ہیں۔لیکن فرمایا کہ مگر ایک اور قسم کا شرک ہے جو مخفی طور پر زہر کی طرح اثر کر رہا ہے اور وہ اس زمانے میں بہت بڑھتا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر بھر وسہ اور