خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 498 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 498

خطبات مسرور جلد 16 498 42 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اکتوبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 19 / اکتوبر 2018ء بمطابق 19 / اخاء1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت العافیت، فلاڈلفیا(Philadelphia)، امریکہ تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّكُوةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ۔(التوبة: 18) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں۔الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے اس شہر میں ہمیں پہلی مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی اور آج اس کار سمی افتتاح ہے۔دنیاوی عمارتوں یا وہ عمارتیں جو دنیاوی مفادات حاصل کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں ان کے افتتاحوں میں تو دنیا کے رواج کے مطابق ان ملکوں میں خاص طور پر اور دنیا میں عموماً دنیاوی ظاہری خوشیوں کے اظہار ہوتے ہیں اور یہ اعلان ہوتے ہیں کہ اس سے ہم یہ دنیاوی فائدہ اٹھائیں گے اور وہ دنیاوی فائدہ اٹھائیں گے۔لیکن مسجد کا افتتاح جب ہم کرتے ہیں، جب ہم مسجد تعمیر کرتے ہیں تو اس سوچ کے ساتھ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے اس گھر کی تعمیر سے ہم نے اپنا مدعا اور مقصد جو رکھنا ہے وہ صرف اور صرف یہ ہو نا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ان باتوں کا کرناضروری ہے جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم عطا فرمایا ہے، اور اس میں سب سے پہلا اور اولین مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنا ہے، اور اس طرح ادا کرنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں جیسا کہ ترجمہ بھی پڑھ دیا گیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی بتایا ہے کہ مسجد کی تعمیر کرنے والوں کا مقصد کیا ہونا چاہئے یا وہ کون لوگ ہیں جو مسجد کی تعمیر کا حق ادا کرتے ہیں۔وہ وہ لوگ ہیں جو اس کی آبادی کی فکر میں رہتے ہیں، اس کو اچھی حالت میں رکھنے کی فکر میں رہتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہیں۔کہنے کو تو سب کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا عملی اظہار بھی ضروری ہے اور وہ اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب اقام الصلوۃ کا عملی نمونہ دکھایا جائے۔اور اقام الصلوۃ کیا ہے؟ اس کا عملی اظہار کس طرح ہوتا ہے یا ہو۔و سکتا ہے ؟ اس کا عملی اظہار ایک تو نماز با جماعت کی ادائیگی میں ہے، دوسرے نماز میں اللہ تعالیٰ کی حضوری اور توجہ کو قائم