خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 496
خطبات مسرور جلد 16 496 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2018 کہ یہ جماعت کا مستقبل ہیں۔ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ آپ ہمیشہ جماعت میں بچوں کے لئے اعلیٰ تعلیم پر زور دیتے اور ہمیشہ جماعتی ترقی کے بارے میں سوچتے تھے۔وفات کے دن ہسپتال میں کوئی ایمبولینس فارغ نہیں تھی، میت کو مسجد میں لے جانے کے لئے ٹرانسپورٹ میسر نہیں تھی۔تو جماعت کے ممبر نے ایک چینی رضا کار کو ان چی (Kuan Chee) صاحب سے رابطہ کیا جو اپنی گاڑی بطور ایمبولینس چلاتے تھے اور لوگوں کی میتیں منتقل کرنے میں مدد کرتے تھے۔اس چینی آدمی نے اپنے فیس بک پر ذکر کیا کہ اس میت کو لے جانے میں اسے عجیب غیر معمولی تجربہ ہوا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ جب اس نے دین کو چلانا شروع کیا تو جس سڑک پر ہمیشہ شدید ٹریفک جام ہو تا تھا وہاں اچانک ٹریفک ختم ہو گیا اور عام طور پر تقریباً ایک گھنٹے کا سفر ہوتا ہے لیکن اس دن مسجد پہنچنے میں صرف پچیس منٹ لگے۔پھر کہتے ہیں مسجد پہنچ کر مجھے احساس ہوا کہ لگتا ہے کسی خادم دین کی میت تھی۔وکیل التبشیر ربوہ منصور خان صاحب نے لکھا ہے کہ عدنان اسماعیل صاحب نے طویل عرصہ جماعت ملائیشیا کے صدر کے طور پر خدمت کی۔اپنے احباب جماعت کے لئے والد کی طرح تھے۔کہتے ہیں ملائیشیا کے دورے کے دوران مجھے جماعتی معلومات پر ان سے بات چیت کا موقع ملا تو میں نے ان کو ایک حکمت عملی سے کام لینے والا شخص پایا اور جس نے ناقابل یقین حالات میں جماعتی کاموں کو کامیابی سے انجام دیا۔بہت پیچیدہ اور مشکل معاملات میں ان کی رائے پر اعتماد کیا جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ، ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں پر قائم رکھے اور ہمیشہ جماعت سے مضبوط تعلق رکھنے والے ہوں۔دوسر اجنازہ حمیدہ بیگم صاحبہ کا ہے جو چوہدری خلیل احمد صاحب ربوہ کی اہلیہ تھیں۔5 / اکتوبر کو 84 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔قادیان سے ملحقہ گاؤں بھینی بانگر میں احمدی فیملی میں پیدا ہوئیں۔نمازوں کی پابند، تہجد گزار، دنیاوی تعلیم تو کوئی نہیں تھی لیکن قرآن کریم سے آپ کو بڑا محبت اور عشق تھا۔دن میں متعدد بار قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔رمضان میں باقاعدگی سے قرآن کریم سننے کے شوق سے نماز تراویح پر بھی جایا کرتی تھیں۔جب ربوہ میں عورتیں جمعہ پر جایا کرتی تھیں اس وقت ان کی کوشش ہوتی تھی کہ مسجد اقصیٰ ربوہ میں نماز جمعہ پر پہنچنے والی سب سے پہلی عورت وہ ہوں اس لئے بہت پہلے جمعہ پر چلی جایا کرتی تھیں۔رہن سہن میں بہت سادگی تھی۔جو پیسے جمع کرتیں اسے چندے کی مختلف تحریکات میں اور تعمیر مساجد میں پیش کر کے بہت خوش ہو تیں اور خدا کا شکر ادا کرتیں۔کئی بچیوں کی شادیاں کروائیں۔غریب بچیوں کا جہیز بھی خود تیار کروا کر دیتیں۔کئی مرتبہ اپنا زیور چندے میں یا غریبوں کو دے دیا۔ہمیشہ با قاعدگی سے غرباء کے پاس جانا ان کی سب سے بڑی خوشی ہوتی تھی۔صدقہ و خیرات بہت کھلے ہاتھ سے کرتیں۔گھر سے کسی کو خالی ہاتھ نہ جانے دیتیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔پسماندگان میں دو بیٹیاں اور آٹھ بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔لطیف احمد صاحب کاہلوں ریٹائرڈ مربی سلسلہ کی بڑی بہن تھیں اور ان کے بڑے بیٹے ڈاکٹر مظفر چوہدری صاحب کو بھی وقف عارضی کی توفیق ملتی رہتی ہے، یہیں یو کے میں، سکنتھارپ (Scunthorpe) میں رہتے ہیں۔ان کے بیٹے