خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 495
خطبات مسرور جلد 16 495 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2018 یہ صحابہ کے ذکر تھے۔اب جمعہ کے بعد میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا جن میں سے پہلا جنازہ مکرم اُنگلو عدنان اسماعیل (Ungku Adnan Ismail) صاحب صدر جماعت ملائیشیا کا ہے، آٹھ اکتوبر کو 74 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ۔ان کے والد ابتدائی احمدیوں میں سے تھے جنہوں نے 1956ء میں سنگا پور کے مبلغ مکرم مولانا محمد صادق صاحب اور سنگا پور جماعت کے پہلے صدر محمد سالکین صاحب کے ذریعہ بیعت کی تھی۔ان کے والد ملائشیا کی ایک سٹیٹ جو ہو ر (Johor) کے مفتی تھے اور ننھیال کی طرف سے اس سٹیٹ کے بادشاہ کے رشتہ دار تھے۔احمدی ہونے کے بعد ان کو گورنمنٹ کے ایک دوسرے شعبہ میں ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔عدنان صاحب اگست 1944 ء میں پیدا ہوئے۔1968ء میں انہوں نے سنگا پور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں بی اے آنرز کیا۔پھر 1969ء میں گورنمنٹ کے انتظامی اور سفارتی شعبوں میں ملازمت کا آغاز کیا۔1969ء سے 1981ء تک وزیر اعظم کے شعبہ ریسرچ میں کام کیا۔اس دوران ان کا تقرر سنگا پور، بیجنگ اور بنکاک میں ملائیشیا کی ایمبیسیز میں ہو تا رہا۔پھر ان کی ترقی ہوئی اور انہیں وزیر اعظم کی نیشنل سکیورٹی کونسل میں ڈویژنل ہیڈ بنا دیا گیا۔یہاں انہوں نے 1984ء سے 1992ء تک کام کیا۔اس کے علاوہ 1992ء سے 1997 ء تک انہوں نے وزیر اعظم کے شعبہ سے باہر دوسرے حکومتی دفاتر میں بھی کام کیا۔1996ء میں دل کے بائی پاس کا آپریشن ہوا، پھر دوبارہ وزیر اعظم کے شعبہ ریسرچ میں 1997ء میں کام شروع کیا۔1999ء میں وہاں سے ریٹائرڈ ہوئے۔آپ نے 1956ء میں گو اپنے والدین کے ساتھ بیعت کی تھی لیکن 1981ء میں بنکاک والی پوسٹنگ سے واپسی پر صحیح، ایکٹو احمدی بنے اور ان کا جماعت سے تعلق بڑھا۔1986ء میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملائیشیا کے پہلے صدر جماعت کے طور پر مقرر فرمایا اور ان کے دور صدارت میں جماعت میں بڑی تبدیلیاں اور ترقیاں بھی ہوئیں۔بیت السلام اور بیت الرحمٰن کی عمارتوں کی تعمیر ان کے دور میں مکمل ہوئی۔انڈونیشیا سے مبلغین کو ملائیشیا میں لانے، انہیں سیٹل کرنے میں انہوں نے بڑی مدد کی۔اسی طرح سے ملائشیا سے جامعہ ربوہ اور قادیان میں طلباء بھجوائے۔گذشتہ دوسالوں سے ان کی صحت کافی خراب تھی۔کئی بار ہسپتال داخل رہے۔پھر انہوں نے مجھے لکھا کہ میں طاہر ہارٹ بھی جانا چاہتا ہوں۔پھر اس سال مئی میں طاہر ہارٹ بھی گئے، کچھ عرصہ گزار کے آئے وہاں، صحت بہتر ہو گئی تھی ان کی لیکن پھر دوبارہ صحت خراب ہوئی اور پھر ہسپتال میں داخل ہو گئے تھے۔یہ اللہ کے فضل سے موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔اُنگو عدنان اسماعیل صاحب جوہور (Johor) سٹیٹ کی رائل فیملی سے ہونے کے باوجود بڑے عاجز انسان تھے۔اپنی حکومتی اور جماعتی ذمہ داری انتہائی احسن انداز میں ادا کرتے تھے۔مرکز بھجوائی جانے والی رپورٹس میں باریک پہلوؤں کا خیال رکھتے اور اکثر جماعتی امور کی انجام دہی کے لئے رات دیر تک دفتر میں کام کرتے رہتے۔جماعتی عہدیداران، کارکنان، احباب جماعت اور خاص کر مبلغین سے ان کا انتہائی اچھا سلوک تھا۔بچوں کے حوالے سے خصوصی توجہ تھی۔یعنی جماعت کے بچوں اور ان کی تعلیم و تربیت کی فکر میں رہتے تھے اور یہی کہتے تھے