خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 494 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 494

خطبات مسرور جلد 16 494 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2018 میں شریک تھے۔ان کے حقیقی بھائی جن کا نام خلاد تھا بعض مورخین کے نزدیک یہ بھی بدری صحابہ میں شامل تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 292 خليد بن قيس دار احياء التراث العربي 1996ء) پھر حضرت ثقف بن عمر و ہیں۔حضرت ثقف بن عمرو کے قبیلہ کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔بعض نے بنو اسلم، بعض کے نزدیک بنو اسد تھا، جبکہ بعض آپ کا تعلق قبیلہ بنو سلم سے بتاتے ہیں۔آپ بنو اسد کے حلیف تھے لیکن بعض کے نزدیک آپ بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔یہ اپنے دو بھائیوں کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے جن کے نام حضرت مالک بن عمر و اور مدلاج بن عمرو ہیں۔حضرت ثقف بن عمر و اولین مہاجرین میں سے تھے۔غزوہ بدر، احد ، خندق، حدیبیہ اور خیبر میں شامل ہوئے اور غزوہ خیبر میں آپ کی شہادت ہوئی۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 1 صفحه 476 ثقف بن عمرو، دار الكتب العلمية بيروت)(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 1 صفحه 525 ،ثقاف دار الكتب العلمية بيروت 1995ء) (الطبقات الكبرى لابن جلد 3 صفحه 72 ثقف بن عمرو، دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) پھر حضرت سبرۃ بن فاتک تھے۔یہ خُریم بن فاتک کے بھائی تھے اور خاندان بنو اسد سے تھے۔ان کے والد کا نام فاتک بن الاخرم تھا۔حضرت سبرۃ کا نام سمرہ بن فاتک بھی ملتا ہے۔ایمن بن خُریم بیان کرتے ہیں کہ میرے والد اور چا دونوں غزوہ بدر میں شامل ہوئے اور انہوں نے مجھے سے پختہ عہد لیا تھا کہ میں کسی مسلمان سے قتال نہیں کروں گا، جنگ نہیں کروں گا۔عبد اللہ بن یوسف نے کہا ہے کہ سبرۃ بن فاتک وہی ہیں جنہوں نے دمشق کو مسلمانوں میں تقسیم کیا تھا۔ان کا شمار شامیوں میں ہوتا ہے۔یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میزان خدائے رحمن کے ہاتھ میں ہے۔وہ بعض قوموں کو بلند کرتا ہے اور بعض کو زوال دیتا ہے ( یعنی ان کے اپنے عملوں کی وجہ سے)۔حضرت سبرۃ بن فاتک کا گزر حضرت ابو درداء کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا سبرۃ کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نور ہے۔عبد الرحمن بن عائذ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے حضرت سبرۃ کو برا بھلا کہا تو انہوں نے اس کا جواب دینے سے بچنے کے لئے غصہ پی لیا۔جواب نہیں دیا، غصہ کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا، خاموش رہے اور غصہ کو دبانے کی وجہ سے آبدیدہ ہو گئے۔اتنا شدت سے ان کو غصہ تھا، اتنابرابھلا کہا گیا ان کو کہ غصہ دبایا جس کی وجہ سے آنکھوں سے پانی آگیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہی اچھا آدمی ہے سمرہ اگر وہ اپنے لمبے بال کچھ چھوٹے کر والے (ان کے لمبے بال تھے ) اور اپنی تہ بند کو تھوڑا اوپر اٹھالے۔جب آپ تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے فوری طور پر ایسا ہی کیا۔آپ بیان کرتے تھے کہ مجھے اس بات کی خواہش ہے کہ ہر دن کسی مشرک سے میر اسامنا ہو جس نے زرہ پہن رکھی ہو۔اگر وہ مجھے شہید کر دے تو ٹھیک اور اگر میں اسے قتل کر دوں تو اس جیسا اور میرے مقابل پر آجائے۔بعض کے نزدیک یہ بدر میں شامل نہیں تھے ا لیکن امام بخاری وغیرہ نے آپ کو اور آپ کے بھائی کو بدری اصحاب میں شامل کیا ہے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد2 صفحه 190 سبرة بن فاتك، دار الفكر بيروت 2003ء)(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 3 صفحه -25-26 ، 152 سبرة سمرة بن فاتك دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) (الاستیعاب في معرفة الاصحاب جلد2 صفحه 29 خريم بن فاتك الاسدي دار الكتب العلمية بيروت 2002ء)