خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 493 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 493

خطبات مسرور جلد 16 493 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2018 اس سے بھی پتہ لگتا ہے۔پھر ایک صحابی حضرت مالک بن تمیلہ ہیں۔ان کی والدہ کا نام نمیلہ تھا۔ان کو ابن تمیلہ کہا جاتا تھا۔ان کا تعلق قبیلہ مُزئینہ سے تھا جو قبیلہ اوس کی شاخ بنی معاویہ کے حلیف تھے۔غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے اور غزوہ احد میں ان کی شہادت ہوئی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 358 مالك ابن نميلة دار الكتب العلمية بيروت 1990ء)(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 4 صفحه 258 مالك بن نميلة، دار الفكر بيروت 2003ء) پھر حضرت اُئیں بن قتادہ بن ربیعہ ہیں۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس سے تھا۔بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔جنگ احد میں شہید ہوئے۔ابو الحکم بن اخنس بن شریق نے ان کو شہید کیا تھا۔حضرت خنساء بنت خذام حضرت اُنیس بن قتادہ کے نکاح میں تھیں۔جب وہ احد کے دن شہید ہوئے تو حضرت خنساء کے والد نے ان کا نکاح قبیلہ مزینہ کے ایک شخص سے کر دیا مگر یہ اسے ناپسند کرتی تھیں۔پھر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خنساء کا نکاح فسخ کر دیا۔باپ نے نکاح کیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اگر لڑکی کو یہ نا پسند ہے تو نکاح فسح کر دیا۔اس کے بعد حضرت خنساء نے حضرت ابولبابہ سے شادی کرلی اور اس نکاح سے پھر حضرت سائب بن ابی لبابہ پیدا ہوئے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 1 صفحه 187 انيس بن قتادة بن ربيعة، دار الكتب العلمية بیروت 2003ء) ، (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 354 انيس بن قتادة، دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) یہ ہے مثال عورت کی آزادی کی۔رشتوں کے معاملے میں بعض لوگ جو اپنی لڑکیوں پر زبر دستی کرتے ہیں ان کو سوچنا چاہئے۔پھر حضرت حارث بن عرفیہ ایک صحابی تھے۔ان کا تعلق قبیلہ بنو غنم سے تھا۔غزوہ بدر اور احد میں یہ شامل ہوئے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 253 الحارث بن عرفجة، دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء) پھر حضرت رافع بن عنجدہ انصاری تھے۔حضرت رافع کے والد کا نام عبد الحارث تھا، عنجدہ آپ کی والدہ کا نام تھا۔حضرت رافع نے اپنی والدہ کی ابنیت سے شہرت پائی، باپ کے بجائے والدہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ان کا تعلق قبیلہ بنو امیہ بن زید بن مالک سے تھا۔غزوہ بدر، احد اور خندق میں یہ شریک ہوئے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد2 صفحه 45 رافع بن عنجرة، دار الفكر بيروت 2003ء)،(الاصابة في تمييز الصحابة جلد2 صفحه 369 رافع بن عنجدة، دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) ایک روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رافع بن عُنجدہ اور حضرت حصین رضی اللہ عنہ بن حارث کے در میان عقد مواخات کو قائم کیا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 30 ذكر الحصين بن الحارث، دار احياء التراث العربي1996ء) پھر حضرت خُليدة بن قیس ایک صحابی تھے۔ان کی والدہ کا نام ادام بنت القین تھا جو کہ بنو سلمہ میں سے تھیں۔خُلیدۃ بن قیس کے علاوہ آپ کا نام خلید بن قیس، خالد بن قیس اور خالدہ بن قیس بھی ملتا ہے۔یہ غزوہ بدر اور احد