خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 492 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 492

خطبات مسرور جلد 16 492 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2018 عدی کے حلیف تھے۔حضرت عاقل، حضرت عامر ، حضرت ایاس اور حضرت خالد نے اکٹھے دار ارقم میں اسلام قبول کیا تھا۔حضرت ایاس اور ان کے بھائیوں حضرت عاقل اور حضرت خالد اور حضرت عامر نے اکٹھی ہجرت کی اور مدینہ میں رفاعہ بن عبد المنذر کے ہاں قیام کیا۔ان کی والدہ کی طرف سے تین بھائی اور بھی تھے یہ سب کے سب غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔ابن یونس نے کہا ہے کہ ایاس فتح مصر میں بھی شریک تھے اور 34 ہجری میں وفات پائی جبکہ ایک روایت کے مطابق حضرت ایاس نے جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔ان کے بھائی حضرت معاذ اور حضرت معوذ اور عاقل غزوہ بدر میں جبکہ حضرت خالد واقعہ رجیع میں اور حضرت عامر جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔حضرت عامر کے متعلق ایک روایت یہ ہے کہ آپ نے بئر معونہ میں شہادت پائی۔حضرت ایاس بن نگیر غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور باقی تمام غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہے۔آپ سابقین اسلام میں سے تھے اور ابتدائی ہجرت کرنے والوں میں سے تھے۔آپ محمد بن ایاس بن نگیر کے والد تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ایاس بن بگیر اور حضرت حارث بن خزمہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔یہ شاعر بھی تھے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 297-298 عاقل بن ابى البكير اياس بن ابى البكير، دار الكتب العلمية بيروت 1990ء)، (اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 1 صفحه 213 اياس بن البكير، دار الفكر بيروت 2003ء)،(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 1 صفحه 309-310 اياس بن ابى البكير، دار الكتب العلمية بيروت 2005ء)،(کتاب المحبر صفحه 399-400 دار نشر الکتب الاسلامیۃ لاہور)، ( بدر البدور المعروف اصحاب بدر مصنفہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری صفحه 44، ایاس بن البکیر ،مکتبہ نذیریہ لاہور ) زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابو البکیر کے لڑکے یعنی یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ہماری بہن کا فلاں شخص کے ساتھ نکاح کر دیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے۔بلال اس سے بہتر ہے اس کے متعلق سوچو۔وہ لوگ چلے گئے۔دوسری مرتبہ پھر آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بہن کا فلاح شخص کے ساتھ نکاح کر دیجئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ یہی فرمایا کہ بلال کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے۔وہ لوگ سوچنے کے لئے پھر چلے گئے۔پھر وہ لوگ تیسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر یہی عرض کی کہ ہماری بہن کا شخص کے ساتھ نکاح کر دیجئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ بلال کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ اور پھر فرمایا کہ ایسے شخص کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جو اہل جنت میں سے ہے۔پھر ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ٹھیک ہے اور بلال سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا۔فلاں (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 179 بلال بن رباح، دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) تو حضرت بلال کا یہ مقام تھا۔اور کس طرح رشتے طے ہوتے تھے اس زمانے میں۔ٹھیک ہے ایک دو دفعہ انکار کیا لیکن تیسری دفعہ پھر انہیں جو حکم ہو اوہ مان لیا۔بہر حال ہر ایک کا اپنا اپنا مقام تھا۔بعض لوگ پہلی دفعہ ہی عرض کر دیتے تھے کہ ٹھیک ہے جو آپ فرمائیں، بعض سوچنے لگ جاتے تھے لیکن بہر حال حضرت بلال کے مقام کا