خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 491
خطبات مسرور جلد 16 491 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2018 پھر حضرت ابوسبرۃ بن ابی رھم تھے۔ابو سہرۃ ان کی کنیت تھی۔اس کنیت نے اتنی شہرت پائی کہ آپ کا اصل نام لوگوں کو بھول گیا۔ان کی والدہ کا نام بڑہ بنت عبد المطلب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔اس طرح حضرت ابو سبرة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ہوئے۔حضرت ابو سبرۃ نے حبشہ کی طرف دونوں دفعہ ہجرت کی۔دوسری ہجرت حبشہ میں ان کی بیوی ام کلثوم بنت سہیل بن عمرو بھی شامل تھیں۔ان کے تین بیٹے تھے جن کے نام محمد ، عبد اللہ اور سعد تھے۔حضرت ابو سبرۃ جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر کے آئے تو انہوں نے منذر بن محمد کے پاس قیام کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سبرۃ اور سلمہ بن سلامہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔حضرت ابو سبرة غزوہ بدر، احد، خندق اور باقی تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمرکاب رہے۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ سے چلے گئے اور مکہ جا کر آباد ہو گئے تھے۔حضرت ابو سبرۃ نے حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں وفات پائی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 307-308 ابو سبرة بن ابى رهم، دار الكتب العلمية بیروت 1990ء)(سير الصحابه جلد2 صفحه 583 حضرت ابو سبره بن ابی ،رهم، دار الاشاعت کراچی2004ء) پھر حضرت ثابت بن عمرو بن زید ہیں۔ابن اسحاق اور زہری جو تاریخ کے لکھنے والے ہیں انہوں نے حضرت ثابت بن عمرو کا سلسلہ نسب بنو نجار سے بیان کیا ہے اور ابن مندہ نے ان کا سلسلہ نسب قبیلہ بنو شمجمع سے قرار دیا ہے جو انصار کے حلیف تھے۔غزوہ بدر میں یہ شامل ہوئے تھے اور غزوہ احد میں شہادت پائی۔(اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد1 صفحه 449 ثابت بن عمرو بن ،زید دار الكتب العلمية بيروت) پھر حضرت ابوالاً غور بن الحارث ہیں۔حضرت ابوالاعور بن حارث کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ابو الاعور کا نام کعب ہے جبکہ ابن عمارہ کے نزدیک ان کا نام حارث بن ظالم ہے۔آپ کے چچا کا نام کعب تھا۔جو نسب کو نہیں جانتے انہوں نے ابو الاعور کو ان کے چچا کعب کے نام سے منسوب کیا ہے۔ابن ہشام بھی یہی کہتے ہیں۔حضرت ابوالاعور کی والدہ ام نیار بنت ایاس بن عامر تھیں ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو عدی بن نجار سے تھا۔غزوہ بدر اور احد میں یہ شریک ہوئے۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 4 صفحه 1599 ابو الاعور بن الحارث دار الجيل بيروت 1992ء) (الطبقات الكبرى لابن ، سعد جلد 3 صفحه 389-390 ابو الاعور، دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) پھر حضرت عبس بن عامر بن عدی ہیں۔ابن اسحاق نے آپ کا نام عبس بیان کیا ہے اور موسیٰ بن عقبہ نے آپ کا نام عبسی بیان کیا ہے۔ان کی والدہ کا نام ام البنین بنت زهیر بن ثعلبہ تھا۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو سلمہ سے تھا۔حضرت عبس ان ستر انصار صحابہ میں شامل تھے جو بیعت عقبہ میں حاضر تھے اور آپ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے۔(طبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 294 ، عبس بن عامر، دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء) (اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد 3 صفحه 415 عبس بن عامر الانصاري، دار الفکر بيروت 2003ء) پھر حضرت ایاس بن بگیر ہیں، ان کو ابن ابی نگیر بھی کہا جاتا تھا۔آپ قبیلہ بنو سعد بن لیث سے تھے جو بنو