خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 41
خطبات مسرور جلد 16 41 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جنوری 2018 دوست داؤد صاحب بیمار تھے۔ہسپتال میں داخل ہو گئے۔ان کے جگر گردے اور پھیپھڑوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ہسپتال میں ہی انہیں دل کا دورہ بھی پڑا۔انہیں وینٹی لیٹر (ventilator) پر لگا دیا گیا۔کچھ دیر بعد ڈاکٹروں نے جواب دے دیا یہاں تک کہ ان کی فیملی نے جماعت سے درخواست بھی کر دی کہ جنازہ وغیرہ کی تیاری میں مدد کی جائے۔حافظ صاحب کہتے ہیں انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے لکھا خود بھی دعا کی۔جماعت کو بھی دعاؤں کے لئے کہا۔اگلے دن جماعتی وفد جس میں صدر انصار اللہ ، سیکر ٹری تبلیغ اور یہ شامل تھے ان کو وزٹ کرنے گئے تو ڈاکٹر کہنے لگے کہ ایک معجزہ ہو گیا ہے کہ جو دوائی ہم پہلے انہیں دے رہے تھے اور ان کا جسم اسے قبول نہیں کر رہا تھا اب وہی دوائی اثر کر رہی ہے اور ان کی طبیعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے بہتر ہو رہی ہے۔ہم نے ڈاکٹر کو کہا کہ یہ معجزہ دعا کی وجہ سے ہوا ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ نئی زندگی عطا فرمائی ہے۔دعا کی قبولیت کے بعض اور متفرق واقعات ہیں جو لوگوں کے لئے جماعت اور خلافت سے تعلق اور جماعت کی سچائی اور خد اتعالیٰ پر ایمان میں ترقی کا باعث بنتے ہیں۔مصطفی صاحب سعودیہ کے رہنے والے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں نے آپ کی خدمت میں دعا کی درخواست کی تھی کہ میر اتبادلہ فلاں شہر میں ہو جائے اور اس طرح میں فیملی کے ساتھ رہ سکوں۔کہتے ہیں بظاہر یہ نا ممکن تھا لیکن اب دعا سے ایک ایسا معجزہ ہوا کہ تبادلوں کی ایک رو چل پڑی اور میں تینتیس نمبر سے ایک نمبر پر آ گیا ہوں۔یعنی اب جب بھی کوئی تبادلہ ہوا مجھے موقع دیا جائے گا اور اس میں فیملی کے ساتھ رہ سکوں گا۔یہ کہتے ہیں میرے لئے تو یہ ایک معجزے سے کم نہیں ہے۔اپنے اپنے حالات ہر کوئی جانتا ہے۔بظاہر بعض باتیں بڑی معمولی معلوم ہوتی ہیں لیکن جس پر گزر رہی ہوتی ہے اس کو احساس ہو تا ہے کہ یہ کس قسم کی انہونی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور دعاؤں سے ہو گئی۔تنزانیہ کے ریجن موروگورو کے معلم لطیف صاحب ایک واقعہ لکھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ہماری جماعت کی ایک مسجد سے کسی نے سولر سسٹم کی بیٹری چوری کر لی۔جب اگلے دن احباب جماعت کو پتا چلا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ پولیس میں رپورٹ کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں۔وہاں بھی کچھ نہیں ہونا۔پولیس نے نوٹ کر لینا ہے اور قصہ ختم ہو جانا ہے تو بہتر ہے ہم دعا کریں۔اللہ کے آگے جھکیں اور اس سے مانگیں۔ہم یہ دعا کریں گے کہ جس نے بھی یہ بیٹری چوری کی ہے اس کو خود اللہ تعالیٰ سزا دے دے اور ہماری بیٹری ہمیں کو ٹادے۔کہتے ہیں اس موقع پر چوری کا سن کر بعض غیر احمدی لوگ بھی اکٹھے ہوئے تھے۔لہذا یہ خبر اس گاؤں میں پھیل گئی کہ احمدیوں نے دعا کی ہے کہ جس نے بھی بیٹری چوری کی ہے اللہ تعالیٰ اس کو پکڑے اور سزا دے۔غیر از جماعت احباب نے کہنا بھی شروع کر دیا کہ احمدیوں کی دعائیں بڑی قبول ہوتی ہیں۔اب چور ضرور پکڑا جائے گا کیونکہ اب اس کے لئے کوئی اور راستہ نہیں۔کہتے ہیں ابھی ایک ہی دن گزرا تھا کہ جس کسی نے بھی چوری کی تھی وہ چوری چھپے صبح سویرے بیٹری صدر صاحب جماعت کے گھر کے سامنے رکھ گیا۔اس طرح کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کی دعا کوسنا اور غیر از جماعت احباب کا ایمان بھی دعاؤں پر مزید پختہ ہوا کہ یہ واقعی نیک اور سچے لوگ ہیں۔