خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page v of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page v

خطبات مسرور جلد 16 3 پیش لفظ حفاظت خاص کی ڈیوٹی دے دی۔یہ کام تو اور دوسرے بھی کر سکتے ہیں۔اصل حفاظت یہ ہے کہ خلیفہ وقت کے الفاظ کو پھیلایا جائے۔ان پر عمل کیا جائے۔ان پر عمل کروایا جائے۔اور نئی نسل کو سنبھالا جائے۔صرف یہ دعویٰ کر لینا کافی نہیں کہ ہم دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔یہ لڑائی کا تو مسئلہ نہیں ہے۔آج کل کی لڑائی، آج کل کا جہاد یہ ہے کہ باتوں پر عمل کیا جائے۔اور یہی وہ اصل کام ہے جو خدام الاحمدیہ نے کرنا ہے۔ہر قائد کا کام ہے ، ہر زعیم کا کام ہے ، ہر ناظم کا کام ہے، ہر مہتم کا کام ہے اور صدر صاحب کا کام ہے۔پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ جو باتیں کہی جاتی ہیں۔آپ تقاریر میں سنتے ہیں یا جو خطبات سنتے ہیں ان پر عمل کریں اور ان پر عمل کروائیں۔اپنے نمونے پیش کریں گے تو دوسرے بھی اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔مجھے یاد ہے میری خلافت کے شروع میں مبشر ایاز صاحب نے مجھے لکھا کہ خلفاء کے خطبات اور تقاریر کا مجموعہ شائع ہوتا ہے۔اور ان کے جانے کے بعد شائع ہوتا ہے جبکہ ان کی زندگی میں ہونا چاہیے۔اس لیے انہوں نے لکھا، اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ میری خواہش ہے کہ خلافتِ خامسہ کے دور کے جو میرے خطبات ہیں وہ ساتھ ساتھ ہر سال شائع ہوتے رہیں۔میں نے اجازت دے دی اور بات بھی یہی ٹھیک ہے۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے خلفاء میں ، اور آئندہ بھی ان شاء اللہ خلفاء آتے رہیں گے ، ہر ایک کا ایک دور رکھا ہوا ہے۔اور ہر دور کے مطابق خود رہ نمائی فرماتا رہتا ہے۔اور جو موجودہ وقت کے تقاضے ہیں اس کے مطابق خلیفہ وقت رہ نمائی کرتا ہے۔اس لیے وہ دور جب ختم ہو جائے اور جب نئے خلیفہ کا انتخاب ہو جائے اور نئے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ یہ اعزاز عطا فرما دے تو پھر اس کے مطابق ہی چلنا ہو گا جس طرح وہ رہ نمائی کرے نہ کہ پرانی کتابیں شائع کرنے سے۔ٹھیک ہے بعض تاریخی چیزیں بھی ان میں مل جاتی ہیں۔بعض علمی باتیں بھی مل جاتی ہیں۔وہ شائع ہونی چاہئیں۔لیکن عمل کے