خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page vi
خطبات مسرور جلد 16 4 پیش لفظ لیے ضروری ہے کہ خلیفہ وقت کی بات کو سنو۔اس پر عمل کرو۔نہ یہ کہ اس سے منشاء یہ تھایا وہ تھا۔بعض لوگ آپس میں جب بات کر رہے ہوں تو عہدیداروں کی طرف سے یہ ہوتا ہے کہ نہیں خلیفہ وقت نے جو یہ الفاظ کہے تو ان کا منشاء یہ تھا۔اگر منشاء یہ تھا یا وضاحت کی ضرورت ہے تو خلیفہ وقت موجود ہے اس سے پوچھو۔اور اگر سابق خلفاء کی با تیں تھیں اور ان کا منشاء تھا تو اس کا فیصلہ کرنا بھی خلیفہ وقت کا کام ہے کہ اُس بات کی کیا تشریح ہو گی یا حضرت مسیح موعود کے حوالے ہیں یا ان کی باتیں ہیں تو اس کی کیا وضاحت ہو گی۔یہ کام ہر عہدیدار کا نہیں ہے۔یہ باتیں کہ اس کی تشریح کیا ہونی ہے یہ فیصلہ کرنا خلیفہ وقت کا کام ہے۔اس لیے خدام الاحمدیہ ہمیشہ یاد رکھے ، ہر عہدیدار ہمیشہ یاد رکھے کہ آپ نے خلیفہ وقت کے الفاظ کو دیکھنا ہے، اس کی باتوں کو سننا ہے۔اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اور پرانے منشاء اور پرانی باتیں کھنگالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ جب تک بہتر سمجھتا ہے ایک خلیفہ کو زندگی دیتا ہے اور اس کے کام کو جاری رکھتا ہے۔اور جب وہ بہتر سمجھتا ہے تو ایک دور ختم ہو جاتا ہے اور اگلا دور شروع ہو جاتا ہے۔اس لیے اس بات کو ، اس حقیقت کو سمجھنے کی ہر ایک عہدیدار کو کوشش کرنی چاہیے۔اور خدام الاحمدیہ کا خاص طور پر یہ کام ہے کہ جب خلافت کے نظام کی حفاظت کی ذمہ داری ان پر ہے تو حفاظت اسی طرح ہے کہ اپنے نوجوانوں میں، اپنے بچوں میں یہ روح پیدا کریں کہ تم نے خلیفہ وقت کی باتوں کو سننا ہے اور ان پر عمل کرنا ہے۔اور یہی حقیقت ہے جو خلافت کی حفاظت کا اہل بناتی ہے ورنہ اس کے علاوہ سب باتیں ہی ہیں۔“ الفضل انٹر نیشنل لندن 15 نومبر 2019ء صفحہ 2)