خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 489 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 489

خطبات مسرور جلد 16 489 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2018 عدی سے تھا اور حضرت عبد اللہ بن سراقہ آپ کے بھائی تھے۔حضرت عمر و بن سراقہ اپنے بھائی حضرت عبد اللہ کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو حضرت رفاعہ بن عبد المندر انصاری نے آپ کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔الطبقات الكبرىی جلد 3 صفحه 295 ، عمرو بن سراقة دار الكتب العلمية بيروت 1990ء)،(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 4 صفحه 523 عمرو بن سراقة، دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) آنحضور صلی اللہ ولیم نے حضرت عمرو بن سراقہ کی حضرت سعد بن زید کے ساتھ مواخات قائم فرمائی۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد2 صفحه 436 سعد بن زيد بن مالك الاشهلى دار الكتب العلمية بيروت ) حضرت عمرو بن سراقہ نے غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں شرکت کی۔حضرت عامر بن ربیعہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سریہ نخلہ پر بھیجا اور ہمارے ساتھ حضرت عمرو بن سراقہ بھی تھے۔آپ کا جسم دبلا اور قد لمبا تھا۔دوران سفر حضرت عمرو بن سراقہ پیٹ پکڑ کر بیٹھ گئے، کیونکہ کھانے پینے کا وہاں کچھ نہیں تھا، بھوک کی شدت کی وجہ سے چل نہیں سکتے تھے۔کہتے ہیں ہم نے ایک پتھر لے کر آپ کے پیٹ کے ساتھ کس کر باندھ دیا پھر آپ ہمارے ساتھ چلنے لگے۔پھر ہم عرب کے ایک قبیلہ میں پہنچے تو قبیلہ والوں نے ہماری ضیافت کی۔اس کے بعد پھر آپ چل پڑے۔حس مزاح بھی تھی صحابہ میں تو وہاں سے کھانا کھانے کے بعد جب چل پڑے تو حضرت عمرو بن سراقہ کہنے لگے کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ انسان کی دونوں ٹانگیں اس کے پیٹ کو اٹھاتی ہیں لیکن آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ اصل میں پیٹ ٹانگوں کو اٹھاتا ہے۔خالی پیٹ ہو تو آدمی چل نہیں سکتا۔حضرت عمر نے آپ کو خیبر کی زمین کا ایک حصہ عطا فرمایا تھا۔حضرت عمر و بن سراقہ کی وفات جیسا کہ میں نے کہا حضرت عثمان کے دور خلافت میں ہوئی۔(اسد الغابة جلد3 صفحه 723 عمرو بن سراقة القرشي، دار الفكر بيروت 2003ء)، (الاصابة جلد4 صفحه 523 عمرو بن سراقة دار الكتب العلمية بيروت 1995ء) پھر حضرت ثابت بن هذال ایک صحابی ہیں۔ان کا تعلق خزرج کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تھا۔غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔12 ہجری کو حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں ہونے والی جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 1 صفحه 456 ثابت بن هزال دار الكتب العلمية بيروت ) (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 283 ثابت بن هزال، دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء) پھر حضرت سبیع بن تھیں ہیں۔آپ انصاری خزرجی تھے۔غزوہ بدر اور احد میں شامل ہوئے۔حضرت سبیع رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدہ کا نام خدیجہ بنت عمرو بن زید ہے۔حضرت سیع کا ایک بیٹا تھا جس کا نام عبد اللہ تھا اور اس کی ماں قبیلہ بنو جدارہ سے تھیں۔وہ فوت ہو گیا تھا۔اس کے علاوہ آپ کا کوئی بچہ نہ تھا۔حضرت عبادہ بن قیس آپ کے بھائی تھے۔حضرت سکیع بن قیس اور حضرت عبادہ بن قیس حضرت ابو درداء کے چچا تھے اور حضرت سمیع کے حقیقی بھائی زید بن قیس بھی تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 275 سبيع بن قيس دار احياء التراث العربي بيروت 1996ء)