خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 488 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 488

خطبات مسرور جلد 16 488 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2018 پھر حضرت عبد اللہ بن عبس انصاری ہیں۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو عدی سے تھا۔بعض نے ان کا نام عبد اللہ بن عیس بیان کیا ہے۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر اور اس کے بعد ہونے والے تمام غزوات میں شامل ہوئے۔(الاستیعاب في معرفة الاصحاب جلد 3 صفحه 75 عبد الله بن عبس، دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) پھر حضرت معیب بن شیر انصاری ہیں۔بعض روایات میں آپ کا نام معتب بن بشیر بھی بیان ہوا ہے۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بنو ضبیعہ سے تھا۔حضرت معتب بن قشیر بیعت عقبہ میں شامل تھے۔آپ غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 4 صفحه 432 معتب بن ،قشیر دار الفکر بيروت 2003ء) حضرت سواد بن رُژن انصاری ایک صحابی ہیں۔ان کا نام سواد بن رزن تھا اور بعض روایات میں آپ کا نام اسود بن رزن اور سواد بن زُریق بھی بیان ہوا ہے۔یہ غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 293 سواد بن رزن دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء) پھر حضرت معیب بن عوف صحابی تھے۔حضرت مکتب بن عوف کا تعلق قبیلہ بنو خزاعہ سے ہے۔یہ بنو مخزوم کے حلیف تھے۔آپ کو مکتب بن الحمراء بھی کہا جاتا ہے۔آپ کی کنیت ابو عوف ہے۔حضرت معیب بن عوف دوسری ہجرت حبشہ میں شامل تھے۔جب حضرت معیب بن عوف نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو آپ حضرت مبشر بن عبد المنذر کے ہاں ٹھہرے۔مؤاخات مدینہ کے وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے ساتھ آپ کی مواخات کروائی تھی۔حضرت مکتب بن عوف غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شامل ہوئے۔حضرت معیب بن عوف کی وفات 57 ہجری میں بعمر 78 سال ہوئی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 141، معتب بن عوف، دار احياء التراث العربی بیروت 1996ء) پھر حضرت بخیر بن ابی بخیر ہیں۔حضرت بخیر بن ابی بخیر غزوہ بدر اور احد میں شریک تھے۔ان کے بارے میں بس اتنا ہی لکھا گیا ہے۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 395 بجير بن ابی ،بجیر، دارالکتب العلمية بيروت 1990ء) پھر حضرت عامر بن بگیر تھے۔حضرت عامر بن بگیر کا تعلق قبیلہ بنو سعد سے تھا۔حضرت عامر غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور آپ کے ساتھ آپ کے بھائی حضرت ایاس بن نگیر ، حضرت عاقل بن بگیر اور حضرت خالد بن بگیر غزوہ بدر میں شامل ہوئے اور یہ سب بعد کے غزوات میں بھی شامل ہوئے۔ان سب بھائیوں نے دارارقم میں اسلام قبول کیا تھا۔حضرت عامر بن بگیر جنگ یمامہ والے دن شہید ہوئے۔(الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 2 صفحه 788 عامر بن بكير دار الجيل بيروت 1992ء) پھر حضرت عمرو بن سراقہ بن المعتمر ہیں۔ان کا پورا نام حضرت عمرو بن سراقہ بن معتمر جیسا کہ میں نے کہا ہے۔حضرت عثمان کے دور خلافت میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ان کی والدہ کا نام قدامہ بنت عبد اللہ بن عمر تھا۔بعض کے نزدیک ان کی والدہ کا نام آمنہ بنت عبد اللہ بن عمیر بن أصیب تھا۔حضرت عمر و بن سراقہ کا تعلق قبیلہ بنو