خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 486
خطبات مسرور جلد 16 486 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2018 حضرت مجذر بن زیاد کو ایک ہی چادر میں لپیٹ کر اونٹ پر مدینہ لایا گیا۔حضرت عبد اللہ بن سلمہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کی یارسول اللہ ! میرابیٹا غزوہ بدر میں شریک ہو اتھا اور غزوہ احد میں شہید ہو گیا ہے۔میں چاہتی ہوں کہ اسے اپنے پاس لے آؤں ، یعنی اس کی تدفین مدینہ میں ہو جائے، تا میں اس کی قربت سے مانوس ہو سکوں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عنایت فرمائی۔حضرت عبد اللہ بن سلمہ جسیم اور بھاری وزن کے تھے اور حضرت مجزر بن زیاد دبلے پتلے تھے تاہم روایتوں میں یہ لکھا ہے کہ اونٹ پر دونوں کا وزن بر ابر رہا۔اس پر لوگوں نے تعجب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں کے اعمال نے انہیں برابر کر دیا ہے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد3 صفحه 160-161 عبد الله بن سلمة، مطبوعه دار الفكر بيروت 2003ء) پھر ایک صحابی حضرت مسعود بن خلدہ ہیں۔ان کا نام مسعود بن خلدہ تھا اور بعض روایات میں مسعود بن خالد بیان ہوا ہے۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو زریق سے تھا۔غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ واقعہ بئر معونہ میں شہید ہوئے جبکہ بعض دیگر روایات میں ہے کہ آپ غزوہ خیبر میں شہید ہوئے۔الاستيعاب في معرفة الاصحاب جلد 3 صفحه 448 مسعود بن خلدة، دار الكتب العلمية بيروت 2002ء)، الاصابه في تمييز الصحابه جلد 6 صفحه 281 مسعود بن خلدة، دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) پھر حضرت مسعود بن سعد انصاری ہیں۔حضرت مسعود کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو زریق سے تھا۔غزوہ بدر اور احد میں آپ شریک ہوئے اور بعض کے نزدیک حضرت مسعود بن سعد واقعہ بئر معونہ میں شہید ہوئے جبکہ عبد اللہ بن محمد بن عمارہ اور ابو نعیم کے نزدیک آپ غزوہ خیبر میں شہید ہوئے۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 4 صفحه 369-370 مسعود بن سعد، دار الفکر بيروت 2003ء) پھر ایک صحابی حضرت زید بن اسلم ہیں۔یہ بھی انصاری ہیں۔حضرت زید بن اسلم کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عجلان سے تھا۔یہ غزوہ بدر اور احد میں شامل ہوئے اور حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں طلیحہ بن خویلد الاسدی کے خلاف لڑتے ہوئے بُزاخہ کے دن شہید ہوئے۔بزاخہ نجد میں ایک چشمہ ہے جہاں مسلمانوں کی اسلامی حکومت کے باغی اور مدعی نبوت طلیحہ بن خویلد الاسدی سے جنگ ہوئی تھی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 246 طبقات البحريين من الانصار، زيدبن اسلم، دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء) (اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد2 صفحه 135-136 زید بن اسلم، دار الفكر بيروت 2003ء) پھر ایک صحابی ہیں ابو المنذر یزید بن عامر۔ان کا نام یزید بن عمرو بھی بیان ہوا ہے۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو سواد سے تھا۔بیعت عقبہ اور غزوہ بدر اور احد میں شامل ہوئے اور ان کی اولاد مدینہ اور بغداد میں بھی تھی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 294 طبقات البحريين من الانصار ، يزيد بن عامر ، دار احیاء التراث العربي بیروت 1996ء)، (الاصابة في تمييز الصحابة جلد 6 صفحه 525 يزيد بن عمرو، دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) ان کی اولاد کافی پھیلی۔پھر حضرت عمرو بن ثعلبہ انصاری صحابی ہیں۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عدی سے تھا۔اپنی کنیت سے