خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 485
خطبات مسرور جلد 16 485 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اکتوبر 2018 پھر حضرت سنان بن صیفی ہیں ان کا تعلق خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تھا۔ان کی والدہ کا نام نائلہ بنت قیس تھا۔ان کا ایک بیٹا مسعود بھی تھا۔12 نبوی میں مصعب بن عمیر کی تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں انہوں نے اسلام قبول کیا۔یہ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر دیگر ستر انصار کے ساتھ شامل ہوئے اور غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 291 ، ومن بني عبيد بن عدى۔۔۔سنان بن صيفى دار احیاء التراث العربي1996ء)، (حبیب کبریاء کے تین سو اصحاب از طالب الهاشمی صفحه 325 ، ندیم یونس پرنٹرز لاهور1999ء) غزوہ خندق میں بھی یہ شریک تھے اور اس میں آپ کو شہادت نصیب ہوئی۔(السيرة النبوية لابن هشام جزء اول صفحه 276 باب اسماء من شهد العقبة الاخيرة، دار الكتاب العربي بيروت 2008ء) پھر حضرت عبد اللہ بن عبد مناف ہیں ان کا تعلق قبیلہ بنو نعمان سے تھا۔(السيرة النبوية لابن هشام جزء دوم صفحه 410، من حضر بدراً من المسلمين، دار الكتاب العربي بيروت 2008ء) ابو یحی ان کی کنیت تھی ان کی والدہ خمیمہ بنت عبید تھیں۔ان کی ایک بیٹی تھیں ان کا نام بھی خمیمہ تھا جن کی والدہ ربیع بنت طفیل تھیں۔آپ غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے تھے۔(الطبقات الكبرى لا بن سعد جلد3 صفحه 292 عبد الله بن عبد مناف، دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء) پھر حضرت محرز بن عامر بن مالک ہیں۔ان کی وفات غزوہ احد کے لئے نکلنے والی صبح کے وقت ہوئی۔ان کا پورا نام محرز بن عامر تھا۔ان کا تعلق بنو عدی بن نجار سے تھا۔ان کی والدہ کا نام سغدی بنت خیثمہ بن حارث تھا اور ان کا تعلق اوس قبیلہ سے تھا۔ان کی والدہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خیثمہ کی ہمشیرہ تھیں۔ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ام سھل بنت ابی خارجہ سے آپ کی اولاد اسماء اور کلنم تھیں۔آپ نے غزوہ بدر میں شرکت کی۔جس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے لئے نکلنا تھا اس دن صبح کے وقت ان کی وفات ہو گئی تھی۔ان کا شمار ان لوگوں میں کیا گیا ہے جو غزوہ احد میں شامل ہوئے تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 388 محرز بن عامر دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) کیونکہ شامل ہونے کی نیت تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شامل ہونے والوں میں شمار فرمایا۔حضرت عائذ بن ماعص انصاری صحابی ہیں۔ان نام عائذ بن ما عص تھا۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو زُریق سے تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مؤاخات حضرت سوئیط بن حرملہ سے کروائی۔آپ اپنے بھائی حضرت معاذ بن ماعص کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شامل ہوئے۔حضرت عائذ بن ماعص بئر معونہ اور غزوہ خندق میں شریک ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک تھے۔حضرت ابو بکر کے دور خلافت میں 12 ہجری میں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔(اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد 3 صفحه 43 عائذ بن ماعص مطبوعه دار الفکر بيروت 2003ء)،(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 301 عائذ بن ماعص دار احياء التراث العربي 1996ء) پھر حضرت عبد اللہ بن سلمہ بن مالک انصاری ہیں۔آپ انصار کے قبیلہ بلی سے تعلق رکھتے تھے۔غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔حضرت عبد اللہ بن سلمہ جب شہید ہوئے تو ان کو اور