خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 482
خطبات مسرور جلد 16 482 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05اکتوبر 2018 دوسرا جنازہ ہے عدنان وینڈن بروک (Adnan Vandenbroeck) صاحب کا جو بیلجیم کے نیشنل سیکرٹری امور خارجہ تھے۔29 ستمبر کو وفات پاگئے۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کے والد رضوان وینڈن بروک صاحب بیلجیم جماعت کے پہلے بیلج احمدی تھے جنہوں نے ساٹھ کی دہائی میں بیعت کی تھی۔عدنان صاحب نے اپنے باپ کی وجہ سے احمدیت قبول نہیں کی بلکہ تحقیق کی اور انہوں نے کہا میں تحقیق کرنا چاہتا ہوں اور تحقیق کے بعد 1994ء میں بیعت کی اور احمدی ہونے کے بعد عدنان صاحب بہت ایکٹو ہو گئے تھے، تبلیغ کے میدان میں بھی خاص طور پر بہت آگے آگئے تھے۔1998ء میں ایک دفعہ بیلجیم میں تبلیغی مجلس ہوئی تو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے ان کا ذکر کرتے ہوئے حاضرین کو کہا تھا کہ میرے پاس یہ ایسا ٹرانسلیٹر ہے جو انگریزی سے فرانسیسی میں بھی ترجمہ کر سکتا ہے اور ڈچ میں بھی ترجمہ کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت ایسی مجالس میں یہ کافی مددگار ہوتے تھے۔ڈاکٹر اور میں صاحب بیلجیم کے امیر جماعت لکھتے ہیں کہ ان کو کینسر کا مرض لاحق تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر اس میں بہتری آنی شروع ہوئی۔دوبارہ انہوں نے مشن ہاؤس آنا شروع کر دیا اور یہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کی وجہ سے میں بہتر ہو گیا ہوں کیونکہ اس مرض کے جو دوسرے مریض تھے ان میں سے تقریبا سب ہی فوت ہو گئے۔جو بیلجیم کی پبلک ریلیشن کی ٹیم تھی اس کے شروع سے ہی ممبر تھے۔بعد میں پھر 2016ء میں میں نے ان کو نیشنل سیکرٹری امور خارجہ مقرر کیا اور بڑی مستعدی سے یہ خدمات بجالاتے رہے۔جماعت کو حکومتی لیول پر متعارف کرانے میں ان کا بڑا کر دار تھا۔امیر صاحب لکھتے ہیں کہ بیماری کے باوجود میرے ساتھ حکومتی اداروں میں جایا کرتے تھے اور امور خارجہ کے حوالے سے جو خط و کتابت ہوتی تھی اسے باوجود بیماری کے ہسپتال سے بھی کرتے رہتے تھے۔آخری وقت میں بھی بیلجیم میں ترجمانی کی ڈچ ٹیم کے بھی انچارج تھے۔بڑی محنت سے انہوں نے بعض کتب کے ترجمے بھی کئے ، خطبات کے ڈچ ترجمے کو بھی فائنل ریویو کیا کرتے تھے اسی طرح تمام پریس ریلیزز کے ڈچ ترجمے کو بھی ریویو کیا کرتے تھے۔اور پھر یہ لکھتے ہیں کہ میرے مختلف سفروں کے دوران عدنان صاحب اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ یہ بیماری میرے لئے رحمت ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس دوران مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب اور جماعتی لٹریچر پڑھنے کی توفیق ملی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر میرے ایمان میں بہت ترقی ہوئی ہے۔بیماری میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی تھے۔آخری ایام میں اپنے بڑے بھائی کو تلقین کرتے رہے کہ تم دنیاداری کم کرو اور جماعت کو زیادہ وقت دیا کرو اور امیر صاحب کہتے ہیں مجھے بھی کہتے تھے کہ میر ابھائی شعبہ امور خارجہ میں کافی مفید ہو سکتا ہے اس حوالے سے اس سے خدمات لیا کریں۔ان کی والدہ بتاتی ہیں کہ ان کے خاندان میں احمدیت عدنان صاحب کے والد کی وجہ سے آئی جو سات سال عراق میں رہے جہاں انہیں قرآن کریم پڑھنے کا موقع ملا اور وہیں انہوں نے اسلام قبول کیا۔جب وہ ہالینڈ آئے تو ان کی ملاقات امام بشیر صاحب سے ہوئی اور اس تبلیغ کے نتیجہ میں موصوف احمدیت میں شامل ہوئے۔ایک