خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 481

481 خطبات مسرور جلد 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05اکتوبر 2018 افریقہ ملازمت کے لئے گئے تو وقفے وقفے سے افریقہ جاتی رہیں۔لائبیریا ویسٹ افریقہ میں نیشنل صدر کی حیثیت سے کام کیا۔پھر جنگ کی وجہ سے ملک چھوڑنا پڑا، واپس کراچی شفٹ ہو گئے۔تحریک جدید کی پانچ ہزاری مجاہد دین میں شامل تھیں۔1991ء میں نائب صدر اور سیکرٹری تعلیم ضلع منتخب ہوئیں اور لجنہ مرکزیہ کی طرف سے پندرہ سالہ خدمات پر جو صد سالہ جشن تشکر میں سندات دی گئیں آپ کو بھی وہ سند ملی۔1997ء سے مئی 2018ء تک صدر لجنہ ضلع کراچی کی توفیق پائی اور اس عرصہ میں کراچی جو بہت بڑا شہر ہے اس کے طول و عرض میں انہوں نے دورے کئے ، اجتماعات کئے اور شعبہ جات کی میٹنگز کیں۔انتظامی لحاظ سے اس کو مضبوط کیا اور اڑتالیس سے لے کر اٹھارہ تک تقریباستر سال کا عرصہ پر ان کی خدمات پھیلی ہوئی ہیں۔امۃ النور صاحبہ جو اس وقت ضلع کراچی کی صدر لجنہ ہیں وہ کہتی ہیں انہوں نے ستر سال میں بھر پور خدمات انجام دیں۔دل کی بہت نرم تھیں۔مسکراتے چہرے سے دوسروں کو ملنا، دھیمے لہجے میں بات سمجھانا آپ کی فطرت کا ایک حصہ تھا۔پابندی وقت آپ کا اصول تھا۔جو کام ذمہ لیتیں اسے فور ڈائری میں نوٹ کر لیتیں اس خیال سے کہ بھول نہ جائیں۔پھر کام ہونے پر متعلقہ شعبہ کو فوری فون کر کے بتائیں مرکز سے جو ہدایت یا پیغام آ۔کوشش ہوتی کہ اسی وقت متعلقہ شعبہ کو بتادیں اور دفتر کھلنے کا انتظار نہ کریں اور ہمیشہ وفا کے ساتھ انہوں نے اپنے کام کو بھی نبھایا اور خلافت سے بھی کامل وفا اور اطاعت کا نمونہ دکھایا۔آتا امۃ الباری ناصر صاحبہ نے بھی ان کے ساتھ کام کیا انہوں نے یہی لکھا ہے کہ بڑی محبت سے کام لیتی تھیں۔کوئی افسرانہ انداز نہیں تھا۔ان کے زمانے میں کراچی کی طرف سے پچاس کتب کی اشاعت ہوئی اور فارسی کتاب، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی کلام کا مجموعہ ہے وہ بھی کراچی کی لجنہ کو ان کی صدارت میں ہی شائع کرنے کا موقع ملا۔بڑی تحمل مزاج تھیں اور امتہ الباری صاحبہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں ان کی سب سے بڑی خوبی ان کا صبر اور اور تحمل تھا۔بہت معاملہ فہم تھیں خاص طور پر عا ئلی جھگڑوں کو سلجھانے میں دونوں طرف کی بات سن کر مناسب نصیحت کرتیں اور کوشش کرتیں کہ معاملات سلجھ جائیں اور یہی آجکل کے مسائل ہیں ہماری جماعت میں بھی۔عائلی جھگڑے بہت زیادہ ہو گئے ہیں اللہ تعالیٰ فریقین کو بھی عقل دے کہ آپس میں سلجھا لیا کریں اور عہدیداروں کو بھی عقل دے کہ ان کو سلجھانے میں حقیقی کردار ادا کرنے والے ہوں۔ان کی بہو لکھتی ہیں کہ ہم بہوؤں کو بیٹیوں کی طرح رکھا اور ہم بلا جھجک آپ سے اپنے مسائل کی بات کر لیا کرتی تھیں۔اسی طرح وہاں لجنہ کی جنرل سیکرٹری صاحبہ بھی لکھ رہی ہیں کہ دفتر چلاتے ہوئے بالکل ایک برابری کے ساتھ ہمارے ساتھ کام کر تیں اور بڑی رہنمائی کرتیں۔پھر ان کی بہو لکھتی ہیں کہ قرآن کریم پڑھانے کی طرف خاص توجہ تھی۔اپنے پوتے پوتیوں کو قرآن کریم پڑھایا، دینی تعلیم سے آراستہ کیا۔ملازمین سے، غریبوں سے بھی حسن سلوک رکھتی تھیں بلکہ ان کے مرنے کے بعد ان کے گھر والوں کا بھی خیال رکھتیں اور ہمیشہ ان کے حق ادا کرنے کی کوشش کرتیں۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے درجات بلند کرے ان کی اولاد کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔