خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 40
خطبات مسرور جلد 16 40 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جنوری 2018 ہمارے گھر آئیں۔اس نے کہا کہ میری بیوی کی حالت بہت خراب ہے۔تو کہتے ہیں اس بات پر میں اپنی بیوی کو لے کر ان کے گھر چلا گیا کیونکہ ان کی بیوی کا زچگی کا معاملہ تھا اس لئے عورت کی ضرورت تھی اور وقت بالکل قریب تھا اور اس کو بڑا تیز بخار تھا اور تیز بخار کی وجہ سے رحم کے سکڑنے کی وجہ سے بچے کی پیدائش نہیں ہو رہی تھی۔وہ کہنے لگا کہ گزشتہ دو دفعہ بھی اس طرح ہی ہو چکا ہے جس میں یا تو بچہ بچ سکتا تھا یا والدہ۔لہذ ادونوں دفعہ انہوں نے والدہ کو بچانے کی کوشش کی اور اولاد کی قربانی دینی پڑی اور اب یہ تیسری بار ایسا ہو رہا ہے۔معلم سلسلہ نے کہا کہ ایسی حالت میں ہم دوا کے ساتھ دعا بھی کرتے ہیں اور اپنے امام کو بھی دعا کے لئے لکھتے ہیں لیکن اب تو یہاں اتنا وقت نہیں ہے۔دعا کا جو ظاہری طریقہ ہے وہ تو کریں گے ہی اور لکھنے کا وقت نہیں۔چلو ہم خود ہی دعا کرتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں کا واسطہ دے کر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دے کر دعا شروع کی اور دعا ختم کرنے پر سورۃ فاتحہ پڑھ کر پانی پر پھونکا اور اس عورت کو پلایا۔کہتے ہیں اس طرح میں نے دو تین دفعہ کیا اور پانی پھونک کر عورت کو پلانے کے لئے بھجوایا۔تیسری دفعہ خاوند خوشی سے آیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری بیوی بھی بچالی اور بیٹا بھی دے دیا اور اس نو مبایع کا ایمان اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا تعالیٰ کی ذات پر اور بھی بڑھا اور دعا پر ایمان مزید مضبوط ہوا اور تب سے یہ خود بھی باقاعدہ توجہ سے ، انکسار سے، عاجزی سے، تڑپ سے دعائیں کرنے لگ گیا۔اسی طرح ایک بیمار کا ذکر کرتے ہوئے کینیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ وہاں کی ایک جماعت کے صدر صاحب بہت بیمار تھے۔ان کی خیریت دریافت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے دو ہسپتالوں سے جواب دے دیا گیا ہے اور اب میری حالت بہت خراب ہے۔کسی وقت بھی آپ کوئی بری خبر سن سکتے ہیں۔ان کی جلد کا رنگ بھی بہت بدل گیا تھا۔جسم بالکل ٹھنڈا اور بے جان محسوس ہو تا تھا۔انہیں تسلی دی کہ آپ ہمت نہ ہاریں۔خود بھی دعا کریں اور معلم کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے مجھے بھی یہاں خط لکھا۔معلم بتاتے ہیں کہ ایک ہفتے کے بعد جب میں دوبارہ اس جماعت میں نماز جمعہ پڑھانے گیا تو میں نے دیکھا کہ ان کی حالت بہتر ہے اور کچھ دنوں بعد یہاں سے میر اجواب بھی ان کو مل گیا کہ اللہ تعالیٰ انشاء اللہ کامل شفا عطا فرمائے گا۔اس کے بعد کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی صحت مسلسل بہتری کی طرف مائل ہوئی اور اب کچھ عرصہ بعد وہ بالکل تندرست ہو گئے ہیں اور اپنا کام کاج کر رہے ہیں۔پس دعا کے طفیل انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نئی زندگی عطا ہوئی اور اس نے بھی ان کے ایمان میں اضافہ کیا ہے۔پھر کر ناٹک انڈیا سے وہاں کے امیر ضلع لکھتے ہیں۔وہاں کے ایک جماعت کے صدر جماعت لکھتے ہیں کہ ان کو برین ٹیومر ہو گیا اور ہسپتال میں داخل ہو گئے۔ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کا علاج ممکن نہیں ہے۔آپریشن کرتے وقت جان بھی جاسکتی ہے۔انہوں نے فورادعا کے لئے مجھے بھی یہاں لکھا اور میر اجواب بھی ان کو گیا کہ اللہ تعالیٰ شفا عطا فرمائے۔کہتے ہیں کہ ایک ماہ کے بعد ڈاکٹروں نے دوبارہ ان کا معائنہ کیا تو حیران ہو گئے کہ برین ٹیومر کا نام و نشان تک نہیں ہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا اور دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے کہ حسین صاحب مکمل طور پر شفایاب ہو گئے۔پھر ایک مریض کا ذکر ہے جس کے بارے میں حافظ احسان سکندر مبلغ بیلجیم لکھتے ہیں کہ ایک احمدی