خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 480

خطبات مسرور جلد 16 480 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05اکتوبر 2018 دوسر ارشتہ جو پسند تھا اس کی ماں کو اور لڑکی کو اس سے رشتہ ہو گیا۔تو یہ عورت کی آزادی رائے تھی جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور جو یتیم ہے اس کا خاص طور پر خیال رکھنے کو کہا کہ باپ کا سایہ اس پر نہیں ہے تو زیادتی نہ ہو جائے اس لئے لڑکی کی مرضی بہر حال دیکھی جانی چاہئے۔حضرت قدامہ نے 36 ہجری میں 68 سال کی عمر میں وفات پائی۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة جلد 4 صفحه 376 قدامة بن مظعون دار الكتب العلمية بيروت) اللہ تعالیٰ یہ دین کا فہم و ادراک اور اطاعت و وفا کے حقیقی نمونے اور عشق رسول کے اعلیٰ معیار ان صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیں بھی حاصل کرنے، اپنانے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کے فتنوں کا حصہ بننے سے ہمیں ہمیشہ بچائے۔نماز کے بعد میں دو جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا مکر مہ امتہ الحفیظ بھٹی صاحبہ اہلیہ محمود بھٹی صاحب کراچی کا ہے۔یہ بڑا لمبا عرصہ صدر لجنہ ضلع کراچی رہی ہیں۔27 ستمبر کو 93 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔انا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔ان کے والد کا نام ڈاکٹر غلام علی تھا اور ان کے والد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں شامل تھے۔آپ کے والد فوج میں ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے اکثر مختلف شہروں میں رہتے تھے ، تبادلے ہوتے رہتے تھے۔جہاں بھی رہتے دینی ماحول بنا لیتے۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کا بڑا عجیب طریق تھا۔دینی ماحول بنا لیتے اور چند مہینوں کی تبلیغ سے آپ کے زیر اثر لوگ احمد کی ہو جاتے اور پھر وہاں جماعت قائم کر کے اپنے گھر کو ہی ڈاکٹر صاحب جماعتی کاموں کے لئے سینٹر بنا لیتے۔اور اس طرح انہوں نے بہت سی جماعتیں قائم کیں۔ان کی خواہش تھی کہ ان کی فیملی قادیان کے دینی ماحول میں رہے اس لئے اپنی فیملی کو قادیان میں رکھا۔ڈاکٹر امة الحفیظ صاحبہ کی والدہ نے بھی اپنی تمام عمر جماعت کے لئے وقف کر دی۔1936ء سے قادیان کے دینی ماحول میں رہیں۔امتہ الحفیظ بھٹی صاحبہ نے قادیان میں میٹرک کے بعد دینیات کلاس میں درجہ رابعہ تک تعلیم پائی۔اس دوران یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ حضرت مصلح موعودؓ کے درس القرآن میں باقاعدگی سے شامل ہوتی رہیں۔جب سے ہوش سنبھالا جماعتی خدمت کی توفیق پائی۔ان کی شادی ان کے خالہ زاد محمود بھٹی صاحب سے ہوئی اور اس رشتہ کا بھی یہ لمبا واقعہ ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ میں نے کشفا دیکھا تھا کہ کس طرح لڑکی کی والدہ نے ایک خط مجھے بھیجا ہے لڑکی کے ہاتھ اور ایک رشتے کے بارے میں پوچھا ہے اور اس کا نام بتایا ہے۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد ہی وہ لڑکی آئی، خط آیا اور وہ ساری باتیں اسی طرح ہوئیں تو حضرت مصلح موعودؓ نے اس رشتہ کو بھی منظور فرمایا کہ یہ نظارہ سارا میں کشفا ابھی تھوڑی دیر پہلے دیکھ چکا ہوں اور تھوڑی دیر بعد بعینہ اسی طرح ہوا جس طرح آپ نے دیکھا تھا چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رشتہ منظور فرمایا۔1948ء میں شادی کے بعد کراچی میں رہائش پذیر ہونے کے ساتھ ہی لجنہ اماء اللہ کراچی میں ان کا خدمات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اس کے ساتھ ہی اپنی تعلیم بھی انہوں نے جاری رکھی اور پھر بڑی عمر میں 1972ء میں سندھ یونیورسٹی سے ایم۔اے عربی کی ڈگری حاصل کی، بڑی اچھی فرسٹ کلاس کے ساتھ۔1975ء میں امتہ الحفیظ صاحبہ کے شوہر