خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 479

خطبات مسرور جلد 16 479 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05اکتوبر 2018 فاطمہ پیدا ہوئے۔ایک بیوی فاطمہ بنت ابوسفیان تھیں جن سے آپ کی بیٹی عائشہ پیدا ہوئیں۔اسی طرح ام ولد کے بطن سے حفصہ اور حضرت صفیہ بن خطاب کے بطن سے حضرت رملہ پید اہوئیں۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 306 ومن بني جمع بن عمرو۔۔۔"قدامة بن مظعون‘ دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) قبول اسلام کے وقت ان کی عمر انیس برس کی تھی، گویا عین جوانی میں ہی انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ہجرت مدینہ کے وقت آپ کا سارا خاندان مکہ میں اپنے مکانوں کو بالکل خالی چھوڑ کر مدینہ چلا گیا۔مدینہ میں حضرت عبد اللہ بن سلمہ عجلانی نے اس خاندان کو اپنا مہمان بنایا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے حضرت قدامہ اور ان کے بھائیوں کو مستقل رہائش کے لئے قطعات زمین مرحمت فرمائے۔( ستر ستارے از طالب الہاشمی صفحہ 66-68 البدر پبلی کیشنز لاہور) حضرت قدامہ ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے تھے۔دونوں ہجر توں یعنی ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ میں شامل ہوئے۔ان کو غزوہ بدر اور احد سمیت تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شامل ہونے کی توفیق ملی۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 5 صفحه 322 قدامه بن مظعون دار الكتب العلمية بيروت 1995ء)،(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 306 ومن بني جمع بن عمرو۔۔۔۔قدامة بن مظعون دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) جب حضرت عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی تو آپ نے اپنے پیچھے ایک بیٹی چھوڑی جس کے متعلق آپ نے اپنے بھائی حضرت قدامہ کو تاکیدی نصیحت فرمائی۔اس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت قدامہ دونوں میرے ماموں تھے۔پس میں حضرت قدامہ کے پاس گیا اور ان سے درخواست کی کہ حضرت عثمان بن مظعون کی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیں تو آپ نے مجھ سے بات پکی کر دی، رشتہ ہو گیا۔مغیرہ بن شعبہ اس لڑکی کی والدہ کے پاس گئے اور انہیں مالی لحاظ سے رغبت دلائی اور لڑکی کی رائے بھی اپنی والدہ کے حق میں تھی، ایک اور رشتہ آیا اور لڑکی کی والدہ اور لڑکی کی رغبت یا رشتہ کرنے کارجحان دوسری طرف تھا۔یہ معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قدامہ کو بلا بھیجا اور اس رشتہ کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے۔میں اس کے لئے رشتہ چنے میں کوئی کوتاہی نہیں کروں گا۔میرے بھائی کی بیٹی ہے اور وہ فوت ہو گیا ہے ، میں اس کے رشتے کے لئے جو بہترین ہو گا وہی کروں گا چنانچہ میں نے جو پہلے ہاں کر دی ہے اس کو بہتر سمجھ کے کی ہے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ یتیم بچی ہے اس کی شادی اس کی مرضی سے ہو گی۔اس کا باپ نہیں ہے ، ٹھیک ہے تم نے بہترین کیا ہو گا لیکن اس بچی کی مرضی بھی پوچھو۔دونوں رشتوں میں سے جہاں بچی کہے گی وہاں شادی ہو گی۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد یہ فیصلہ کیا۔یہ راوی جنہوں نے پہلے خود پیغام بھیجا تھا، رشتہ دار تھے ، بھانجے تھے بیان کرتے ہیں کہ میرے بجائے اس کا نکاح مغیرہ سے کر دیا۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 5 صفحه 323 قدامه بن مظعون دار الكتب العلمية بيروت 1995ء)