خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 478
خطبات مسرور جلد 16 478 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05اکتوبر 2018 کو حقیقی ادراک تھا، اللہ تعالیٰ کے رحمن اور رحیم ہونے کا ادراک تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کی صفات کا واسطہ دے کر یہ بات شروع کی، اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کی تاکہ اس وصیت میں کوئی بھی ایسی بات ہو جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آسکتی ہو تو رحمان اور رحیم خدا اس سے بچائے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کے مالی حالات خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنے اچھے ہو گئے تھے کہ آخری عمر میں آپ نے اپنا وظیفہ لینا چھوڑ دیا تھا۔(اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد 3 صفحه 387 دار الكتب العلمية بيروت) اس فارغ البالی کی حالت میں جبکہ نوے ہزار درہم آپ کا ترکہ تھا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 119 ومن حلفاء بني زهره بن كلاب۔۔۔“عبد الله بن مسعود دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) اپنے کفن کے بارے میں یہی وصیت کی کہ وہ سادہ چادروں کا ہو اور دو سو درہم کا ہو اور وفات کے بعد حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کے ساتھ دفن کیا جائے۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے حضرت عثمان نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔آپ کو رات کو دفن کیا گیا۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کی تدفین کے بعد صبح ان کی قبر پر سے ایک راوی گزرے تو دیکھا کہ اس پر پانی چھڑ کا ہوا تھا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 118 ومن حلفاء بني زهره بن كلاب۔۔۔“عبد الله بن مسعود" دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) عقیدت کا یہ حال تھا کہ لوگوں نے رات کو ہی اس قبر کی مضبوطی کے لئے پانی چھڑ کا ہو گا۔ابو الاحوص بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی وفات کے بعد میں حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابو مسعود کے پاس حاضر ہوا۔ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ کیا ابن مسعود نے اپنے بعد کوئی مثل چھوڑا ہے ، ان جیسا ہے کوئی اور ؟ تو انہوں نے کہا کہ ایسا ہمارے جانے کے بعد تو شاید ممکن ہو، اس وقت ہمیں ایسا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ابھی ہمارے درمیان اس وقت کوئی نہیں، شاید بعد میں کوئی پید اہو جائے۔بن مسعود دار (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 119 حلفاء بني زهره بن كلاب۔۔۔"عبد الله ومن الكتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت تمیم بن حرام بیان کرتے ہیں کہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ کی مجالس میں بیٹھا ہوں مگر حضرت عبد اللہ بن مسعود سے زیادہ دنیا سے بے رغبت اور آخرت سے رغبت رکھنے والا کسی اور کو نہیں پایا۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 4 صفحه 201 ، عبد الله بن مسعود دار الكتب العلمية بيروت 1995ء) دوسرے جن صحابی کا آج میں ذکر کروں گا ان کا نام حضرت قدامہ بن مظعون ہے۔حضرت قدامہ بن مطعون حضرت عثمان بن مظعون کے بھائی ہیں اور حضرت عمرؓ کی بہن حضرت صفیہ آپ کے عقد میں تھیں۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 5 صفحه 322-323 قدامه بن مظعون دار الكتب العلمية بيروت 1995ء) حضرت قدامہ بن مظعون کی ایک سے زائد شادیاں تھیں۔ایک اہلیہ ہند بنت ولید تھیں جن سے عمر اور