خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 477
477 خطبات مسرور جلد 16 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اکتوبر 2018 وجہ سے اللہ تعالیٰ کے خوف سے اور اللہ تعالیٰ کی سزا کے ڈر سے ان کی حالت غیر ہو گئی۔عجیب مقام تھا ان کا خشیت اللہ کا۔سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق حضرت ابن مسعود صرف جمعرات کے روز وعظ فرمایا کرتے تھے جو بہت ہی مختصر اور جامع ہوتا تھا اور ان کا بیان ایسا دلچسپ اور شیریں ہوتا تھا کہ حضرت عبد اللہ بن مرداس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ جب تقریر ختم کرتے تھے تو ہماری خواہش ہوتی تھی کہ کاش ابھی وہ کچھ اور بیان کرتے۔شام کے وقت اس وعظ میں بالعموم آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں سے صرف ایک حدیث سنایا کرتے تھے اور حدیث بیان کرتے وقت آپ کے جذب و شوق اور عشق رسول کا منظر دیدنی ہو تا تھا۔آپ کے شاگر د مسروق کہتے ہیں کہ ایک روز آپ نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی اور جب ان الفاظ پر پہنچے کہ سَمِعْتُ رَسُولَ الله۔۔۔کہ میں نے خدا کے رسول سے سنا تو مارے خوف اور خشیت سے آپ کے بدن پر ایک لرزہ طاری ہو گیا۔یہانتک کہ آپ کے لباس سے بھی جنبش محسوس ہونے لگی۔اس کے بعد احتیاط کی خاطر یہ بھی فرمایا کہ شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے تھے یا اس سے ملتے جلتے الفاظ۔حدیث بیان کرتے وقت آپ کمال درجہ احتیاط برتے تھے۔یہ اس وعید اور گرفت کی وجہ سے معلوم ہوتی ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ غلط احادیث بیان کرنے والوں کی پکڑ ہو گی۔ایک اور روایت سے بھی اس احتیاط کا اندازہ ہوتا ہے۔عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سال تک حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس آتا جاتا رہا۔وہ حدیث بیان کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیتے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله علیه وسلم یعنی اللہ کے رسول نے فرمایا کے الفاظ کہہ کر آپ پر ایک عجیب کرب کی کیفیت طاری ہو گئی اور پیشانی سے پسینہ گرنے لگا پھر فرمانے لگے کہ اسی قسم کے الفاظ اور اس سے ملتے جلتے الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے۔(سیرت صحابه رسول صلی المی یوم از حافظ مظفر احمد صفحه 83-284 نظارت اشاعت ربوہ 2009ء) آپ کی خدا خوفی کا یہ عالم تھا کہ فرمایا کرتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ مرنے کے بعد اٹھایانہ جاؤں اور حساب کتاب سے بچ جاؤں۔حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مسعود بیمار ہوئے تو سخت خوفزدہ ہو گئے۔ہم نے پوچھا کہ آپ کو کبھی کسی بیماری میں اتنا پریشان نہیں دیکھا جتنا اس میں ہیں۔فرمانے لگے یہ بیماری مجھے اچانک آلگی ہے۔میں ابھی خود کو آخرت کے سفر کے لئے تیار نہیں پاتا اس لئے پریشان ہوں۔آپ نے اپنی موت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دن میرے لئے آسان نہیں ہو گا۔میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو اٹھایانہ جاؤں۔ابن مسعود سے مروی ہے کہ آپ نے یہ وصیت کی اور اس وصیت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 117 ومن حلفاء بني زهره بن كلاب۔۔۔“عبد الله بن مسعود’ دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) اب بسم اللہ الرحمن الرحیم آجکل ہر ایک لکھتا ہے تو یہ خاص طور پر جو اس کا یہاں ذکر ہوا اس لئے کہ ان