خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 476
خطبات مسرور جلد 16 476 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05اکتوبر 2018 کہ تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ لوگ آپ کی قوم اور آپ کے خاندان سے ہیں۔ان کو معاف فرما کر نرمی کا معاملہ فرمائیں شاید اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا اور تنگ کیا ہے آپ ان کی گردنیں اڑا دیں۔پھر حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے رائے پیش کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ گھنے درختوں والا جنگل تلاش کریں اور ان کو اس میں داخل کر کے آگ لگا دیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی رائے سنی مگر کوئی فیصلہ نہ فرمایا اور اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ لوگ آپس میں باتیں کرنے لگ گئے کہ اب دیکھیں کس کی رائے پر عمل ہوتا ہے۔تھوڑی دیر بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خیمہ سے باہر تشریف لائے اور فرمانے لگے اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا نرم فرما دیتا ہے کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں اور بعض لوگوں کے دلوں کو اتنا سخت کر دیتا ہے کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں اور اے ابو بکر ! تمہاری مثال حضرت ابراہیم جیسی ہے انہوں نے فرمایا تھا کہ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِی وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (ابراهيم :37) کہ پس جس نے میری پیروی کی تو وہ یقیناً مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا تو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔پھر یہ بھی فرمایا کہ ابو بکر تمہاری مثال حضرت عیسی جیسی ہے انہوں نے فرمایا تھا کہ ان تُعَذِّبْهُمْ فَإِنّهُمْ عِبَادُكَ وَ إِنْ تَغْفِرُ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (المائدة: 119) کہ اگر تو انہیں عذاب دے تو آخر یہ تیرے بندے ہیں ، اگر تو انہیں معاف کر دے تو یقینا تو کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔اور حضرت عمررؓ کو کہا کہ تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام جیسی ہے جیسے انہوں نے فرمایا تھارَبِ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا - ( نوح: 27) کہ اے میرے رب! کافروں میں سے کسی کو زمین میں بستا ہوا نہ رکھ اور پھر حضرت عمرؓ کو یہ بھی فرمایا کہ تمہاری حضرت موسیٰ جیسی مثال ہے جنہوں نے فرمایا تھا کہ رَبَّنَا اخميس عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيم (یونس: 89) کہ اے ہمارے رب ان کے اموال برباد کر دے اور ان کے دلوں پر سختی کر پس وہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چونکہ تم ضرورت مند ہو اس وجہ سے قیدیوں میں سے ہر قیدی یا تو فدیہ دے گا یا پھر اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم کی تعمیل سے سہل بن بیضاء کو مستثنیٰ قرار دیا جائے کیونکہ میں نے ان کو اسلام کا بھلائی کے ساتھ تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس دن جتنا مجھے اپنے اوپر آسمان سے پتھروں کے برسنے کا ڈر لگا اتنا مجھے کبھی نہیں لگا۔آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماہی دیا کہ اس کو مستی کیا جاتا ہے۔(ماخوذ از چار عبد الله از علامہ مفتی محمد فیاض چشتی صفحہ 34 تا36 شاکر پبلیکیشنزار دو بازار لاہور 2017ء) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموش رہنا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی پر محمول کیا اور اس