خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 475
خطبات مسرور جلد 16 475 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05اکتوبر 2018 پس یہ اطاعت تھی جس سے وہ مقام ان کو حاصل ہوا اور فتحیاب ہوئے۔پس یہ خاص نکتہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اس عمل سے خلیفہ وقت کی اطاعت کا بھی اظہار ہو گیا اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ مقام کا بھی اظہار ہو گیا۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر حضرت عبد اللہ بن مسعود کے طریق کی ہمیشہ تعریف فرمائی اور یہی حقیقی طریقہ ہے فتنوں سے بچنے کا۔پس یہ وہ اسوہ ہے جو ہر احمدی کے لئے مشعل راہ ہے۔ایک دفعہ حضرت عمررات کے وقت ایک قافلہ سے ملے۔اندھیرے کی وجہ سے اہل قافلہ کو دیکھنا ممکن نہ تھا۔اس قافلہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود بھی موجود تھے۔حضرت عمرؓ نے ایک آدمی کو قافلہ والوں سے پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں ؟ اس آدمی کے استفسار پر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا۔فج العميق۔یعنی دور کے راستے سے۔پھر پوچھا کہاں جارہے ہو تو جواب انہوں نے دیا کہ بیت العتیق۔یعنی خانہ کعبہ جارہے ہیں۔حضرت عمر نے پوچھا کہ ان لوگوں میں کوئی عالم ہے؟ پھر ایک آدمی کو حکم دیا کہ ان کو آواز دیگر پوچھو کہ قرآن کریم کی سب سے عظیم آیت کون سی ہے۔اس قافلے میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ تھے انہوں نے ہی اس شخص کو جواب دیا، حضرت عمرؓ کے پوچھوانے پر کہ کونسی آیت عظیم آیت ہے کہ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَى الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُدُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمُ (البقرة:256)۔(آیت الکرسی )۔پھر پوچھا کہ قرآن کریم کی محکم ترین آیت کون سی ہے۔تو یہ روایت میں آتا ہے کہ عبد اللہ بن مسعودؓ نے جواب دیلانَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذى القربى (النحل: 91) حضرت عمر نے اس آدمی سے یہ پوچھنے کا کہا کہ قرآن کی جامع ترین آیت کون سی ہے؟ اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ جواب دیا۔فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ۔وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شر ایرہ۔(الزلزال:8-9) پھر پوچھو کہ قرآن کریم کی خوفناک ترین آیت کون سی ہے۔اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ آیت بتائی کہ لیس بِأَمَانِيَكُمْ وَلَا آمَانِي أَهْلِ الْكِتَبِ۔مَنْ يَعْمَلْ سُوءٍ ا تُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدُ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (النساء:124) حضرت عمر فاروق نے کہا کہ ان سے پوچھو کہ قرآن کریم کی سب سے امید افزا آیت کون سی ہے؟ جس پر عبد اللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا کہ قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيمُ - (الزمر:54) يہ ساری باتیں سننے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ کیا تمہارے در میان عبد اللہ بن مسعودؓ ہیں ؟ قافلہ کے لوگوں نے کہا کیوں نہیں! اللہ کی قسم ہمارے درمیان موجود ہیں۔حضرت عمر کو اس بات کا علم تھا کہ آپ علم فقہ سے لبریز ہیں۔(ماخوذ از نقوش صحابه از خالد محمد خالد ترجمہ و تہذیب ارشاد الر حمن صفحه 68-69 مطبع عرفان افضل پر یس بند روڈلاہور ) اور یہ سارے جواب سن کے حضرت عمر کو یقیناً پتہ لگ گیا ہو گا کہ عبد اللہ بن مسعودؓ ہی ایسے عالمانہ جواب دے سکتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا