خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 474

474 خطبات مسرور جلد 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05اکتوبر 2018 سنت کے خلاف عمل کیا ہے۔چنانچہ جو لوگ شور مچانے والے تھے، فتنہ پرداز تھے انہی میں سے کچھ لوگ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے پاس بھی پہنچے اور کہنے لگے آپ نے دیکھا کہ آج کیا ہو ا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کیا کرتے تھے اور عثمان نے آج کیا کیا۔ان لوگوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ کو کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو حج کے دنوں میں مکہ آکر صرف دور کعتیں پڑھایا کرتے تھے مگر حضرت عثمان نے چار رکعتیں پڑھائیں۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ سن کر کہا کہ دیکھو ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم فتنہ اٹھائیں کیونکہ خلیفہ وقت نے کسی حکمت کے ماتحت ہی ایسا کام کیا ہو گا، کوئی حکمت ہو گی جو ہمیں سمجھ نہیں آئی۔پس تم فتنہ نہ اٹھاؤ۔حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ میں نے بھی ان کی اقتداء میں چار رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔میں بھی نماز پڑھنے والوں میں شامل تھا اور میں نے بھی چار رکعتیں ہی پڑھی ہیں مگر نماز کے بعد میں نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ لی کہ خدایا تو ان چار رکعتوں میں سے میری وہی دور کعتیں قبول فرمانا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم پڑھا کرتے تھے اور باقی دور کعتوں کو میری نماز نہ سمجھنا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں یہ کیسا عشق کا رنگ ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود میں پایا جاتا تھا کہ انہوں نے چار رکعتیں پڑھ تو لیں مگر انہیں وہ ثواب بھی پسند نہ آیا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پڑھی ہوئی دور کعتوں سے زیادہ تھا اور دعامانگی کہ الہی دور کعتیں ہی قبول فرمانا چار نہ قبول کرنا۔اب جو مقتدی تھے انہوں نے تو خلیفہ وقت کے پیچھے چار رکعتیں پڑھیں اور اطاعت میں پڑھ لیں۔نماز کا بھی ثواب ہے ، اطاعت کا بھی ثواب ہے لیکن عبد اللہ بن مسعود کا اپنا ایک نظریہ تھا۔انہوں نے کہا کہ اطاعت میں نے کر لی لیکن اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ اس سے زیادہ ثواب لوں جتنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے نمازیں پڑھ کے ، ہمیں حاصل کرنے والا بنایا اور اس لئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دور کعتوں کو قبول کرنا۔اور پھر حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ پھر خلافت کی اطاعت کا بھی اس میں کیسا عمدہ نمونہ پایا جاتا ہے۔ان کو معلوم نہ تھا کہ حضرت عثمان نے کس وجہ سے دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھی ہیں حالانکہ یہ وجہ ایسی ہے جسے بہت سے لوگ صحیح قرار دیتے ہیں۔وہ بیوی کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے، بیٹے کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے ، ماں باپ کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے پس یہ مسئلہ ٹھیک تھا۔اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ احتیاط کہ باہر کے لوگوں کو دھو کہ نہ لگے اور اسلام میں کوئی رخنہ نہ پڑ جائے ان کے اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کا ثبوت تھا۔حضرت عثمان کا بھی یہ بڑا اعلیٰ درجہ کا تقویٰ تھا، نیت تھی کہ ٹھوکر نہ لگے مگر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو اس وقت تک اس حکمت کا علم نہیں تھا کہ کیا وجہ تھی حضرت عثمان کی چار رکعتیں پڑھنے کی لیکن انہوں نے یہ نہیں کیا کہ نماز چھوڑ دی ہو۔بلکہ انہوں نے نماز بھی پڑھ لی اور خلافت کی اطاعت بھی کرلی اور بعد میں خدا تعالیٰ کے حضور عرض کر دیا کہ یا اللہ میری دور کعتیں ہی قبول ہوں چار نہ ہوں۔یہ کیسی فرمانبرداری اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم بہ قدم چلنے کی روح تھی جو ان میں پائی جاتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ باوجود اس بات کے کہ صحابہ بالکل ان پڑھ تھے ، سارے مکہ میں کہا جاتا ہے کل سات آدمی پڑھے لکھے تھے لیکن ساری دنیا پہ یہ لوگ چھا گئے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 22 صفحہ 106 تا 109)