خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 473
خطبات مسرور جلد 16 473 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05اکتوبر 2018 عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں ایک دفعہ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ میں چار رکعتیں پڑھیں۔حج پر گئے ہوئے تھے، قیام تھوڑا تھا، وہاں چار رکعتیں پڑھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لئے تشریف لائے تھے تو آپ نے وہاں دور کعتیں پڑھی تھیں کیونکہ مسافر کو دور کعت نماز پڑھنے کا ہی حکم ہے۔پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے زمانہ خلافت میں تشریف لائے تو آپ نے بھی دو ہی رکعتیں پڑھیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ حج کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے بھی دو ہی پڑھیں یعنی قصر نماز کا جہاں حکم ہے وہاں قصر کی مگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار رکعتیں پڑھا دیں۔اس پر لوگوں میں ایک شور برپا ہو گیا، بڑا شور مچایالوگوں نے اور انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو بدل دیا ہے۔چنانچہ حضرت عثمان کے پاس لوگ آئے اور انہوں نے دریافت کیا کہ آپ نے چار رکعتیں کیوں پڑھی ہیں ؟ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ میں نے ایک اجتہاد کیا اور وہ یہ اجتہاد تھا کہ اب دور دور کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔بہت سے لوگ دور دور سے حج کے لئے بھی آنے لگ گئے ہیں اور ان میں سے اکثر کو اب اسلامی مسائل اتنے معلوم نہیں جتنے پہلے لوگوں کو معلوم ہوا کرتے تھے۔اب وہ صرف ہمارے افعال کو دیکھتے ہیں۔وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہم پرانے مسلمان کیا کر رہے ہیں ، اور جس رنگ میں وہ ہمیں کوئی کام کرتا دیکھتے ہیں اسی رنگ میں خود کرنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی اسلام کا حکم ہے۔یہ لوگ چونکہ مدینہ میں بہت کم آتے ہیں اور انہیں وہاں رہ کر ہماری نمازیں دیکھنے کا موقع نہیں ملتا تو اس لئے میں نے یہی خیال کیا کہ اب حج کے موقع پر انہوں نے مجھے دور کعت نماز پڑھتے دیکھا، قصر کرتے دیکھا تو اپنے علاقے میں جاتے ہی کہنے لگ جائیں گے کہ خلیفہ کو ہم نے دور کعت نماز پڑھاتے دیکھا ہے اس لئے اسلام کا اصل حکم یہی ہے کہ دور کعت نماز پڑھی جائے۔حضرت عثمان نے کہا کہ جب یہ اپنے علاقے میں جا کے بتائیں گے تو لوگ چونکہ اس بات سے ناواقف ہوں گے کہ دور کعت نماز سفر کی وجہ سے پڑھی گئی ہے اس لئے اسلام میں اختلاف پید اہو جائے گا اور لوگوں کو ٹھو کر لگے گی۔یہ حضرت عثمان نے اجتہاد کیا۔تو حضرت عثمان نے کہا پس میں نے مناسب سمجھا کہ چار رکعت نماز پڑھا دوں تاکہ نماز کی چار رکعت انہیں نہ بھو لیں۔باقی رہا یہ کہ میرے لئے چار رکعت پڑھنا جائز کس طرح ہو گیا۔اس کا بھی حضرت عثمان نے جواب دیا کہ میں نے کیوں چار رکعت پڑھیں اور کیوں میرے لئے یہ جائز ہے۔آپ نے اس کا جواب دیا کہ میں نے یہاں شادی کی ہوئی ہے، مکہ میں میری شادی ہوئی ہوئی ہے اور بیوی کا سارا خاندان وہاں تھا ، سسرال وہیں تھا۔چونکہ بیوی کا وطن بھی اپنا ہی وطن ہوتا ہے، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ مسافر نہیں ہوں اور مجھے پوری نماز پڑھنی چاہیئے۔اپنے اجتہاد کی یہ ایک اور دلیل انہوں نے دی۔غرض حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار رکعت نماز پڑھانے کی یہ وجہ بیان فرمائی اور اس توجیہہ کا مقصد آپ نے یہ بتایا کہ باہر کے لوگوں کو دھو کہ نہ لگے اور وہ اسلام کی صحیح تعلیم کو سمجھنے میں ٹھو کر نہ کھائیں۔ان کی یہ بات بھی بڑی لطیف تھی، بڑی باریک گہری بات تھی اور جب صحابہ نے سنی تو اکثر لوگ سمجھ گئے اور بعض نہ سمجھے مگر خاموش رہے۔مگر دوسرے لوگوں نے جو فتنہ پیدا کرنے والے تھے انہوں نے شور مچا دیا اور کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عثمان نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی