خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 472 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 472

خطبات مسرور جلد 16 472 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اکتوبر 2018 تھا تو اس پر انہوں نے اس کو سمجھایا ہو اور اس نے بغیر دیکھے کہ یہ کتنے عاجز شخص ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر کتنا عمل کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کس قدر خشیت ہے آگے سے یہ جواب دیا اور حضرت عمر کو جب پتہ لگا تو آپ نے اس کی سرزنش کی۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کی اطاعت رسول کے بارے میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ حدیثوں میں ایک واقعہ آتا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ اُن میں کس قدر فرمانبرداری کی روح پائی جاتی تھی۔بظاہر وہ ایک ایسی بات ہے جسے سن کر کوئی انسان کہہ سکتا ہے یہ کیسی بیو قوفی کی بات ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ( حضرت خلیفہ ثانی کہتے ہیں ) کہ ان کی ترقی کا راز اسی میں مضمر تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جب کوئی حکم سنتے تو اسی وقت اس پر عمل کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی اس کو بیان کر رہے ہیں کہ احادیث میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی طرف آرہے تھے تو آپ ابھی گلی میں ہی تھے کہ آپ کے کانوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز آئی کہ بیٹھ جاؤ۔معلوم ہوتا ہے کہ ہجوم زیادہ ہو گا اور کچھ لوگ کناروں پر کھڑے ہوں گے تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ جو ابھی مجلس میں نہیں پہنچے تھے اور گلی میں انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز سنی تو وہیں بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے جیسے بچے چلتے ہیں گھسٹ گھسٹ کر مسجد میں پہنچے۔کسی شخص نے جو اس راز کو نہیں سمجھتا تھا کہ اطاعت اور فرمانبر داری کی روح ہی دنیا میں قوموں کو کس طرح کامیاب کرتی ہے جب حضرت عبد اللہ بن مسعود کو اس طرح چلتے دیکھا تو اس نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ کیسی بیوقوفی کی بات ہے۔وہ اس کو بیوقوفی سمجھ رہا تھا۔اس کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ قوموں کی ترقی کے لئے اصل چیز اطاعت ہے۔بہر حال اس نے اس کو کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب تو یہ تھا کہ مسجد میں جو لوگ کناروں پر کھڑے ہیں وہ بیٹھ جائیں مگر آپ گلی میں ہی بیٹھ گئے ہیں اور گھسٹتے ہوئے مسجد میں آئے ہیں۔آپ کو چاہئے تھا کہ جب مسجد پہنچتے تو اس وقت بیٹھتے ، گلی میں بیٹھ جانے کا کیا فائدہ تھا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود نے جواب دیا ہاں ہو تو سکتا تھا لیکن اگر مسجد پہنچنے سے پہلے ہی میں مر جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم میرے عمل میں نہ آتا اور کم سے کم ایک بات ایسی ضرور رہ جاتی جس پر میں نے عمل نہ کیا ہو تا۔اب یہ شوق تھا ان لوگوں کا کہ کوئی بات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے یہ نہ ہو کہ ہم اس پر عمل نہ کریں۔اس پر انہوں نے کہا میں نے یہ بات سنی اور مجھے یہ فکر پیدا ہوئی کہ اگر میں اس دوران مر جاتا تو پھر میرے نامہ اعمال میں کہیں یہ نہ لکھا جائے کہ یہ ایک آخری بات تھی جس پر تم نے سننے کے باوجود عمل نہیں کیا۔تو بہر حال انہوں نے اس سے کہا کہ اس لئے میں نے مناسب نہ سمجھا کہ میں چلتا ہوا آؤں اور پھر مسجد میں آکر بیٹھوں۔میں نے خیال کیا کہ زندگی کا کیا اعتبار ہے شاید میں مسجد میں پہنچوں یا نہ پہنچوں اس لئے ابھی بیٹھ جانا چاہئے تا کہ اس حکم پر بھی عمل ہو جائے۔یہ لوگ اتنی باریکی سے چیزوں کو دیکھنے والے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مزید لکھتے ہیں کہ انہی عبد اللہ بن مسعودؓ کا واقعہ ہے کہ حضرت