خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 471 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 471

خطبات مسرور جلد 16 471 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اکتوبر 2018 انہوں نے حضرت ابو بکر سے بھی مختصر وعظ کیا۔پھر کسی اور شخص سے فرمایا تو اس نے لمبی تقریر شروع کر دی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ یا فرمایا خاموش ہو جاؤ۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے تقریر کے لئے فرمایا۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اس کے بعد صرف یہ کہا کہ اے لوگو ! اللہ ہمارا رب ہے، قرآن ہمارا ر ہنما ہے ، بیت اللہ ہمارا قبلہ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نبی ہیں۔اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں اور مجھے تمہارے لئے وہ پسند ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ابن مسعود نے درست کہا اور مجھے بھی اپنی امت کے لئے وہ پسند ہے جو ابن مسعود نے پسند کیا۔(ماخوذ از سیرت صحابه رسول صلی الله ام از حافظ مظفر احمد صفحہ 284-285 نظارت اشاعت ربوہ 2009) حضرت علی جب کوفہ میں تشریف لے گئے تو آپ کی مجلس میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کا کچھ تذکرہ ہوا۔یہ وہاں پہلے رہ چکے تھے۔لوگوں نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اے امیر المؤمنین! ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے بڑھ کر اعلیٰ اخلاق والا اور نرمی سے تعلیم دینے والا اور بہترین صحبت اور مجلس کرنے والا اور انتہائی خدا ترس اور کوئی نہیں دیکھا۔حضرت علی نے بغرض آزمائش ان سب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ سچ سچ بتاؤ کہ عبد اللہ بن مسعود کے متعلق یہ گواہی صدق دل سے دیتے ہو۔سب نے کہا ہاں۔اس پر حضرت علی نے فرمایا کہ اے اللہ ! گواہ رہنا۔اے اللہ ! میں بھی عبد اللہ بن مسعود کے بارے میں یہی رائے رکھتا ہوں جو ان لوگوں کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بہتر رائے رکھتا ہوں۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد3 صفحه 115 ومن حلفاء بني زهره بن كلاب۔۔۔“عبد الله بن مسعود" دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت عبد اللہ بن مسعود نے اپنے دینی بھائی حضرت زبیر بن العوام کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم فرمودہ مواخات کا حق بھی خوب ادا کیا۔ان پر کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ وصیت فرمائی کہ میرے جملہ مالی امور کی نگرانی اور سپر دداری، یعنی تمام کام جو ہیں ان کو سنبھالنا جو میری جائیداد پیچھے رہ جائے گی، حضرت زبیر بن العوام اور ان کے صاحبزادے عبد اللہ بن زبیر کے ذمہ ہو گی اور خاندانی معاملات میں ان کے فیصلے قطعی اور نافذ العمل ہوں گے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 118 ومن حلفاء بني زهره بن كلاب۔۔۔"عبد الله بن مسعود دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) ابو وائل سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے ایک شخص کی تہہ بند ٹخنوں سے نیچے دیکھی تو اسے شخنوں سے اوپر کرنے کا کہا۔اس پر اس شخص نے جوابا آپ سے کہا کہ آپ بھی اپنی تہہ بند ٹخنوں سے اوپر کریں۔آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔میری پنڈلیاں باریک ہیں اور میں دبلا بھی ہوں۔حضرت عمر کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو انہوں نے اس شخص کو حضرت ابن مسعود سے اس طرح مخاطب ہونے اور جواب دینے کے سبب سزا بھی دی۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 4 صفحه 201 "عبد الله بن مسعود دار الكتب العلمية بيروت 1995ء) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس شخص میں تکبر ہو اور اس زمانے میں تکبر کی وجہ سے کپڑے لمبے رکھنے کا رواج