خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 470
خطبات مسرور جلد 16 470 40 خطبه جمعه فرموده مورخه 05 اکتوبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 05 / اکتوبر 2018ء بمطابق 05 / اضاء 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں صحابہ کے ذکر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کے بارے میں بیان کر رہا تھا اور ان کی کیونکہ کافی روایات ہیں ان کی اپنی بھی، ان کے بارے میں دوسروں کی بھی کچھ روایات رہ گئی تھیں جو اب میں بیان کروں گا۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے بارے میں بزرگ صحابہ کہا کرتے تھے کہ عبد اللہ بن مسعود اللہ تعالیٰ سے قرب اور تعلق میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جن صحابہ کے نمونے کو مشعل راہ بنانے کے لئے بطور خاص ہدایت فرماتے تھے ان میں حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ کے علاوہ عبد اللہ بن مسعودؓ کا نام بھی شامل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ عبد اللہ بن مسعود کا طریق مضبوطی سے پکڑو۔(جامع الترمذی ابواب المناقب باب مناقب عبد الله بن مسعود حدیث 3805) ایک روایت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاص اعتماد تھا آپ پر اور عبد اللہ بن مسعودؓ کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ایک غیر معمولی عشق تھا۔ان کے بعض واقعات میں نے بیان بھی کئے تھے۔اور بھی واقعات ہیں، بعض دفعہ ملتے جلتے واقعات ہیں لیکن مختلف زاویوں سے بیان کئے گئے ہیں۔ان کے بارے میں لکھا ہے کہ باطنی لحاظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے حضرت ابن مسعود یعنی عبد اللہ بن مسعود کو ایک متقی، پرہیز گار اور عبادت گزار انسان بنادیا تھا۔عبادت اور نوافل سے ایسی رغبت تھی کہ فرض نمازوں اور تہجد کے علاوہ چاشت کے وقت کی نماز کا بھی اہتمام فرماتے تھے۔اسی طرح ہر سوموار اور جمعرات کو نفلی روزہ رکھتے تھے اور پھر بھی یہ احساس غالب رہتا تھا کہ وہ کم روزے رکھتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ تہجد وغیرہ کی ادائیگی کے لئے بدن میں کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔تہجد بھی بڑی لمبی اور غیر معمولی پڑھنے والے تھے اور اگر حقیقت میں حق ادا کرتے ہوئے نوافل اور تہجد ادا کی جائے تو انسان بڑی کمزوری محسوس کرتا ہے۔اس لئے فرماتے تھے کہ نماز کو روزے پر ترجیح دیتے ہوئے نسبتا کم نفلی روزوں کا اہتمام کرتا ہوں۔(ماخوذ از سیرت صحابہ رسول صلی الی و کم از حافظ مظفر احمد صفحہ 283 نظارت اشاعت ربوہ 2009ء) ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر خطاب کے بعد حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ اب وہ لوگوں سے وعظ کریں، یعنی حضرت ابو بکر وعظ کریں۔حضرت ابو بکر نے مختصر وعظ کیا پھر حضرت عمر سے فرمایا۔