خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 468

خطبات مسرور جلد 16 468 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 ضرورت ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار کی رحمت چاہتا ہوں۔حضرت عثمان نے کہا کہ آپ کے لئے کوئی طبیب تجویز کر دوں، کوئی ڈاکٹر تجویز کر دوں جو آپ کا علاج وغیرہ کرے۔انہوں نے پھر عرض کی طبیب نے ہی تو مجھے بیمار بنایا ہے۔یعنی کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پہ میں راضی ہوں جو ہو رہا ہے۔پھر حضرت عثمان نے کہا کہ کیا آپ کا وظیفہ مقرر کر دوں ؟ تو کہنے لگے مجھے اس کی ضرورت نہیں۔حضرت عثمان نے کہا کہ آپ کی لڑکیوں کے کام آئے گا۔کہنے لگے کیا آپ کو میری لڑکیوں کے محتاج ہو جانے کا خدشہ ہے جو یہ بات کی ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو حکم دے رکھا ہے کہ ہر شب سورۃ واقعہ پڑھ لیا کرو۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ جو بھی ہر روز رات کو سورۃ واقعہ پڑھ لیا کرے اسے کبھی فاقے کی مصیبت پیش نہ آئے گی۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 35-387 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) یہ تھا تو کل علی اللہ اور قناعت کی حالت ان چمکتے ستاروں کی۔سلمیٰ بن تمام کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے ملاقات کی اور اپنی ایک خواب بیان کرتے ہوئے کہنے لگا کہ میں نے رات آپ کو خواب میں دیکھا ہے اور یہ کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونچے منبر پر بیٹھے ہیں اور آپ اس منبر کے نیچے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمارہے ہیں کہ اے ابن مسعود میرے پاس آجاؤ تم نے میرے بعد بڑی بے رغبتی اختیار کر لی ہے۔عبد اللہ بن مسعود نے پوچھا کہ خدا کی قسم کیا تو نے یہ خواب دیکھا ہے ؟ اس شخص نے کہا ہاں۔پھر اس پر آپ نے فرمایا کہ کیا تو مدینہ سے میری نماز جنازہ پڑھنے آیا ہے ؟ پھر اس کا مطلب ہے اب تو میر اوقت قریب ہی ہے۔اس کے کچھ عرصہ بعد ہی ان کی وفات ہو گئی۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 386 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) لیکن وفات سے قبل حضرت عثمان کو جب ان کی بیماری کا علم ہوا تو آپ کو کوفہ سے مدینہ بلوالیا۔کوفہ کے لوگوں نے آپ کو کو نہ ہی میں رکنے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ ہم آپ کی حفاظت کریں گے۔شاید بیماری نہ تھی لیکن ویسے ہی حضرت عثمان نے ان کو بلا لیا تھا۔بہر حال وہ تو صحت کی حالت میں لگ رہا تھا کہ جب اس شخص نے خواب سنائی۔اس کے بعد پھر یہ واقعہ ہوا کہ حضرت عثمان نے ان کو کوفہ سے بلوالیا با وجود اس کے کہ کوفہ کے لوگ یہی چاہتے تھے کہ آپ وہیں رکے رہیں اور یہ کہا کہ ہم آپ کی حفاظت کریں گے لیکن آپ نے فرمایا کہ خلیفہ وقت کا حکم اور ان کی اطاعت میرے لئے ضروری ہے۔پھر آپ نے یہ بھی کہا کہ عنقریب کچھ فتنے ہوں گے اور میں نہیں چاہتا کہ فتنوں کا شروع کرنے والا میں ہوں۔یہ کہہ کر خلیفہ وقت کے پاس چلے آئے۔آپ کی وفات 32 ہجری میں مدینہ میں ہوئی۔حضرت عثمان نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔وفات کے وقت آپ کی عمر 60 سال سے کچھ زیادہ تھی۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 387 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) ایک اور روایت کے مطابق وفات کے وقت آپ کی عمر 70 برس سے کچھ زائد تھی۔(ماخوذاز طبقات الکبری مترجم از عبد الله العمادی حصہ سوم صفحہ 230 مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی) حضرت عبد اللہ بن مسعود کی وفات پر حضرت ابو موسیٰ نے حضرت ابو مسعود سے کہا کہ کیا آپ یہ