خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 467

خطبات مسرور جلد 16 467 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 بڑی کمزور سی دبلی پتلی ٹانگیں تھیں، ہنسی مذاق کرنے لگے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں ہنستے ہو ؟ عبد اللہ کی نیکیوں کا پلڑا قیامت کے دن احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہو گا۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 385 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) حضرت عبد اللہ بن مسعود کے بال ایسے تھے جن کو وہ اپنے کانوں تک اٹھاتے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ کے بال گردن تک پہنچتے تھے۔جب آپ نماز پڑھتے تو انہیں کانوں کے پیچھے کر لیتے تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 117 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت عمر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود آئے۔چونکہ وہ پست قد کے تھے اس لئے اور لوگ جو بیٹھے ہوئے تھے ان میں چھپنے کے قریب ہو گئے۔ان کا قد چھوٹا تھا۔دوسرے لوگ بہت لمبے لمبے قد کے بیٹھے ہوئے تھے یا اس طرح بیٹھے ہوں گے کہ بیٹھنے کی وجہ سے چھپ گئے۔قریباً چھپنے والے تھے یا صحیح نظر نہیں طرح آرہے تھے۔حضرت عمر نے جب ان کو دیکھا تو مسکرانے لگے۔پھر حضرت عمر نے آپ سے ہی باتیں کیں اور ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگے۔اس دوران حضرت عبد اللہ کھڑے رہے ، جب باتیں کر رہے تھے حضرت عمر سے تو حضرت عبداللہ کھڑے ہو گئے تاکہ چھپیں نہ اور باتیں کرتے رہیں۔باتیں کرنے کے بعد جب حضرت عبد اللہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت عمر نے آپ کو جاتے ہوئے دیکھا اور پیچھے سے دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ شخص علم سے بھرا ہوا ایک بڑا برتن ہے۔(اسد الغابہ جلد 3 صفحه 386 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) حضرت ابن مسعود کے علمی مقام یعنی عبد اللہ بن مسعود کے علمی مقام اور مرتبہ کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب حضرت معاذ بن جبل کی وفات کا وقت آیا اور ان سے درخواست کی گئی کہ ہمیں کوئی نصیحت کریں تو انہوں نے فرمایا کہ علم اور ایمان کا ایک مقام ہے جو بھی اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے کامیاب ہوتا ہے۔پھر علم اور ایمان سیکھنے کے لئے حضرت معاذ بن جبل نے جن چار عالم با عمل بزرگوں کے نام لئے ان میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کا نام بھی تھا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه 375 حدیث 22455 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عمر نے آپ کو اہل کوفہ کی تعلیم و تربیت کے لئے بطور مربی بھیجا جبکہ حضرت عمار بن یاسر کو حاکم بنا کر بھیجا۔ساتھ ہی اہل کوفہ کو یہ بھی لکھا کہ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چنیدہ لوگ ہیں ، بڑے خاص لوگ ہیں ، اہل بدر میں سے ہیں تم لوگ ان کی پیروی کرو، ان کے احکام کی اطاعت کرو اور ان کی باتیں سنو ، میں نے عبد اللہ بن مسعود کے متعلق اپنی ذات پر تمہیں ترجیح دی ہے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 385 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب عبد اللہ بن مسعود کی آخری بیماری تھی آپ کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا آپ کو کوئی شکایت ہے ؟ تو انہوں نے عرض کیا شکایت پوچھتے ہیں میرے سے تو پھر شکایت مجھے اپنے گناہوں کی ہے کہ میں نے اتنے گناہ کئے ہیں۔پھر حضرت عثمان نے پوچھا کہ کیا آپ کو کسی چیز کی