خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 466
466 خطبات مسرور جلد 16 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 انہوں نے اس کو توڑ کے اسی وقت پھینک دیا اور کہا کہ عبد اللہ کا خاندان شرک سے بری ہے۔پھر عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ تعویذ گنڈے شرک میں داخل ہیں۔میں نے کہا یہ آپ کیا فرماتے ہیں ؟ میری آنکھیں جوش کر آتی تھیں تو میں فلاں یہودی سے تعویذ لینے جایا کرتی تھی۔بعض دفعہ میری آنکھوں میں تکلیف ہوا کرتی تھی، آنکھیں پھول جاتی تھیں، پانی نکلتا تھا تو میں تو یہودی سے اس کا تعویذ لیتی تھی اور اسکے تعویذ سے مجھے سکون ہو جاتا تھا۔تو عبد اللہ بن مسعود بولے کہ یہ سب شیطانی عمل ہے۔تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ہی کافی ہے اور وہ دعا یہ ہے کہ اذهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاءُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا۔اے لوگوں کے پروردگار میری تکلیف کو دور فرما تو شفا دے صرف تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفا کے سوا کوئی شفا کار گر نہیں۔ایسی شفا جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔(ماخوذ از سیر الصحابہ جلد 2 صفحہ 225 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء) اب وہ لوگ جو پیروں فقیروں کے دروں پہ جاتے ہیں وہ لوگ جو سارا دن بھنگ اور چرس پی رہے ہوتے ہیں، کبھی نمازیں بھی نہیں پڑھتے اور ان سے تعویذ گنڈا کر ا کے اور پھر کہتے ہیں کہ ہم صحت یاب ہو گئے یا ہم یہ بڑا فضل ہو گیا اور ہمیں اولا د مل گئی اور فلاں ہو گیا۔یہ سب باتیں ان لوگوں کا جواب ہے۔عبد اللہ بن مسعود ایک دفعہ اپنے ایک دوست ابو عمیر سے ملنے گئے۔اتفاق سے وہ موجود نہیں تھے تو انہوں نے ان کی بیوی کو سلام بھیجا اور پینے کے لئے پانی مانگا۔گھر میں پینے کا پانی موجود نہیں تھا۔انہوں نے ایک لونڈی کو کسی ہمسائے کے پاس بھیجا۔اس سے پانی لینے گئی اور دیر تک واپس نہیں آئی۔ابو عمیر کی بیوی نے اس کام کرنے والی لونڈی کو اس بات پر سخت ست کہا اور اس پر لعنت بھیجی۔حضرت عبد اللہ یہ سن کر پیاسے ہی واپس پلٹ گئے۔دوسرے دن ابو عمیر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اتنی جلدی واپس چلے جانے کی وجہ پوچھی کہ تم پانی پیئے بغیر ہی چلے گئے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہاری بیوی نے جب خادمہ پر لعنت بھیجی تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آگئی کہ جس پر لعنت بھیجی جاتی ہے اگر وہ بے قصور ہو تو لعنت بھیجنے والے پر واپس آجاتی ہے۔تو میں نے سوچا کہ خادمہ اگر بے قصور ہوئی تو میں بے وجہ اس لعنت کے واپس آنے کا باعث بنوں گا۔(ماخوذ از سیر الصحابه جلد 2 صفحہ 223 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء) اس لئے بہتر ہے کہ میں چلا جاؤں اور پانی نہ ہوں۔تو خدا تعالیٰ کے خوف کا یہ حال تھا کہ کہیں شائبہ بھی ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہو سکتی ہے کسی وجہ سے تو یہ لوگ اس سے بچتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود دبلے جسم پتلے قد اور گندم گوں رنگ کے مالک تھے لیکن لباس بڑا اچھا پہنتے تھے۔سفید کپڑا پہنتے خوشبو لگاتے تھے۔حضرت طلحہ سے مروی ہے کہ آپ اپنی خوشبو سے پہچانے جاتے تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 116-117 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لئے عبد اللہ بن مسعود کو ایک درخت پر چڑھنے کا حکم دیا۔صحابہ آپ کی دبلی اور بظاہر کمزور پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسی مذاق کرنے لگے،