خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 465 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 465

خطبات مسرور جلد 16 465 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 کریں اور حدیثیں سنیں۔تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روش سے سب سے زیادہ قریب عبد اللہ بن مسعود ہیں۔(اسد الغابہ جلد 3 صفحه 385 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) ان کا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے کے شوق و جذبہ کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ سے جب یہ سوال کیا جاتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عادات و خصائل اور سیرت و شمائل کے لحاظ سے آپ کے صحابہ میں سے قریب ترین کون ہے جس کا طریق ہم بھی اختیار کریں تو حضرت حذیفہ بیان فرماتے تھے کہ میرے علم کے مطابق چال ڈھال، گفتگو اور اخلاق و اطوار کے لحاظ سے عبد اللہ بن مسعود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ نبی کریم فرماتے تھے کہ مجھے اپنی امت کے لئے وہی باتیں پسند ہیں جو عبد اللہ بن مسعود کو مرغوب ہیں۔یہ بخاری کی حدیث ہے۔(صحیح البخاری کتاب المناقب باب مناقب عبد الله بن مسعود حدیث 3762)(مستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 359 ذکر مناقب عبد الله بن مسعود حدیث 5387 دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) حضرت علقمہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کو ان کے طریق، ان کے حسن سیرت اور ان کی میانہ روی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تشبیہ دی جاتی تھی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 114 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت عبد اللہ بن مسعود کے بیٹے عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کی عادت تھی کہ جب رات کو لوگ سو جاتے تو وہ تہجد کے لئے اٹھتے۔ایک رات میں نے انہیں صبح تک گنگناتے ہوئے سنا جیسے شہد کی مکھی گنگناتی ہے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 386 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) یعنی دعا میں ملکی ملکی گنگناہٹ کے ساتھ دعائیں کر رہے تھے یا تلاوت کر رہے تھے۔حضرت علی سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں بغیر مشورے کے کسی کو امیر بناتا تو عبد اللہ بن مسعود کو بناتا۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 385 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) پھر ایک جگہ حضرت علی کی یہی بات اس طرح بیان ہوئی ہے، طبقات الکبری میں لکھا ہے کہ حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اگر میں مسلمانوں کی مجلس شوری کے علاوہ کسی اور کو امیر بناتا تو عبد اللہ بن مسعود کو امیر بناتا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد کبھی بھی چاشت کے وقت نہیں سویا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 114 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) عبد اللہ بن مسعود اپنے بیوی بچوں سے محبت رکھتے تھے۔گھر میں داخل ہوتے تو کھنکھارتے اور بلند آواز سے کچھ بولتے تاکہ گھر کے لوگ باخبر ہو جائیں۔آپ کی اہلیہ حضرت زینب بیان کرتی ہیں کہ ایک روز عبد اللہ گھر داخل ہوئے اس وقت ایک بوڑھی عورت مجھے تعویذ پہنا رہی تھی۔عورتوں کو عادت ہوتی ہے بعض دفعہ کہ تعویذ گنڈا بھی کر لیں شاید برکت حاصل کرنے کے لئے تو ان کو پتہ تھا کہ عبد اللہ بن مسعود کو یہ چیز پسند نہیں ہے۔کہتی ہیں میں نے انکے ڈر سے اسے اپنے پلنگ کے نیچے چھپا دیا، جہاں بیٹھ کر کر رہی تھی۔آپ میرے پاس آکر بیٹھ گئے اور میرے گلے کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ یہ دھاگہ کیسا ہے جو تم نے گلے میں ڈالا ہوا ہے ؟ میں نے کہا تعویذ ہے۔