خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 464
خطبات مسرور جلد 16 464 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2018 حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں ، خود ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے سورۃ نساء پڑھ کر سناؤ۔عبد اللہ بن مسعود اپنا خود واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سورۃ نساء پڑھ کر سناؤ۔میں نے عرض کی کہ میں بھلا کیا آپ کو سناؤں یہ آپ ہی پر تو نازل ہوئی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پسند ہے کہ کوئی دوسرا شخص تلاوت کرے اور میں سنوں۔بیان کرتے ہیں کہ میں نے پڑھنا شروع کیا اور جب اس آیت پر پہنچا کہ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَ جِئْنَا بِكَ عَلَى هُؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء : 42)۔پس کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔روایات میں آتا ہے کہ آپ نے کہا بس کرو۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 384 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت)، (صحيح البخارى كتاب فضائل القرآن باب قول المقرى للقارى حسبك حديث 5050) ایک دفعہ حضرت عمر فاروق عرفات کے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ اے امیر المومنین ! ( ان کی خلافت کے بعد کی بات ہے) میں کوفہ سے آیا ہوں۔وہاں میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص بنا دیکھے قرآن کی آیات کی املاء کرتا ہے۔اس پر آپ نے غصہ کی حالت میں کہا کہ تیر ابراہو۔عربوں کا انداز ہے۔) کون ہے وہ شخص ؟ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ عبد اللہ بن مسعود۔یہ سن کر حضرت عمر کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا یہاں تک کہ پہلی حالت میں واپس آگئے۔پھر فرمانے لگے کہ میں اس کام کا عبد اللہ بن مسعود سے زیادہ کسی اور کو حقدار نہیں سمجھتا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحه 128 حديث 175 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) وہ بغیر دیکھے قرآن کریم لکھ سکتے ہیں۔حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کے وقت حضرت ابو بکر اور میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے پاس سے گزرے۔وہ نوافل ادا کر رہے تھے اور ان میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے۔قیام میں کھڑے تھے، تلاوت ہو رہی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر آپ کی تلاوت سننے لگے۔پھر حضرت عبد اللہ بن مسعو در کوع میں گئے پھر سجدہ کیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبد اللہ اب جو مانگو گے وہ تمہیں عطا کیا جائے گا۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے رخصت ہو گئے اور فرمایا کہ جس شخص کی خوشی اس بات میں ہو کہ وہ قرآن کریم کو اس طرح تازگی سے پڑھے جس طرح وہ نازل کیا گیا تو اسے عبد اللہ بن مسعود سے قرآن شریف پڑھنا چاہئے۔مسند احمد بن حنبل میں یہ روایت ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحه 156-157- حديث 265 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) حضرت عبد الرحمن بن یزیدیہ روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں ایسے شخص کا پتہ بتادیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روش سے زیادہ قریب ہو ، اس طریق پر چلنے والا ہو اور وہی کام کرنے والا ہو یا قریب ترین ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے تا کہ ہم اس سے علم حاصل